لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

بھارتی طلبہ کےاحتجاج پر حکومت کا بڑا کریک ڈاؤن, بھارتی سرکار نےانٹرنیٹ سروس معطل کروادیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نئی دہلی (ویب ڈیسک): بھارت میں امتحانی پیپر لیک) کے خلاف جاری طلبہ کے احتجاج کو دبانے کے لیے بھارتی حکومت نے دارالحکومت دہلی کے مرکزی علاقوں، بالخصوص جنتر منتر کے اطراف میں موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے اس اقدام کو سکیورٹی صورتحال قابو میں رکھنے کا عذر بنا کر نافذ کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہزاروں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا”یہ مظاہرین کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ اس ملک کے نوجوان طلبہ ہیں۔ انٹرنیٹ بند کر کے حکومت اپنے ہی شہریوں کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے اہل خانہ کا اپنے بچوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اگر وزیراعظم نریندر مودی ہر کامیابی کا کریڈٹ لیتے ہیں تو انہیں اس انتظامی ناکامی کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔”

پریانکا گاندھی نے مزید سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران 152 امتحانی پرچے لیک ہوئے، مگر کسی ایک کیس میں بھی مجرموں کو سزا نہیں دی گئی۔

عالمی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مودی حکومت کی جانب سے طلبہ پر شدید لاٹھی چارج، آنسو گیس کے استعمال، میٹرو اسٹیشنز کی بندش اور انٹرنیٹ کی معطلی کی شدید مذمت کی ہے۔

دوسری جانب، وزیراعظم نریندر مودی نے ڈیڑھ ماہ کی خاموشی کے بعد اس بحران سے نمٹنے کے لیے ‘فاسٹ ٹریک عدالتیں’ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم طلبہ تنظیموں اور اپوزیشن نے اس اقدام کو محض سیاسی ڈرامہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔