لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

پیپر لیک بحران، بھارت میں طلبہ کی تحریک زور پکڑ گئی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نئی دہلی (ویب ڈیسک): بھارت میں امتحانی پرچوں کے مسلسل افشاء (Exam Paper Leaks) کے خلاف طلباء اور نوجوانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پیپر لیک کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی اور پارلیمنٹ سے نئے مسودہ قانون کی منظوری کا اعلان کیا ہے، جسے مظاہرین نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں بتایا کہ بھارتی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں امتحانی شفافیت سے متعلق قوانین میں ترمیمی مسودے پر غور کیا جائے گا تاکہ اسے جلد از جلد پارلیمنٹ سے منظور کرایا جا سکے۔ تاہم، مظاہرین کا کہنا ہے کہ صرف سزاؤں میں اضافہ حل نہیں بلکہ امتحانی نظام کی بنیادوں سے اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ پیپر لیک ہونے کا واقعہ ہی پیش نہ آئے۔

سٹیزنز فار جسٹس اینڈ پیس (CJP) کے نمائندے داس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ احتجاج پیچھے نہیں ہٹے گا اور ملک گیر مظاہرے جاری رہیں گے۔

اس وقت دارالحکومت نئی دہلی سمیت ممبئی، بنگلورو اور پٹنہ جیسے بڑے شہروں میں ہزاروں طلباء و طالبات سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ مظاہرین کا شدید مطالبہ ہے کہ بھارت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

یہ احتجاجی تحریک اس وقت شعلہ بنی جب مئی میں دو ملین (20 لاکھ) سے زائد طلباء سے متعلق میڈیکل کالج داخلہ ٹیسٹ کا پرچہ افشاء ہونے پر امتحان منسوخ کرنا پڑا۔ ابتدا میں چند سو نوجوانوں سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب لاکھوں شہریوں کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔

مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے شدید لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس میں کئی طلباء زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکام نے احتجاج کو دبانے کے لیے نئی دہلی کے 17 میٹرو اسٹیشنز بند کر دیے ہیں اور مرکزی دہلی میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔