نیویارک / واشنگٹن: امریکہ ایران بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرات اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
مئی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بین الاقوامی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر گئی ہے۔
جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا، جس سے عالمی معیشت، ایندھن کی قیمتوں اور افراطِ زر (مہنگائی) کے حوالے سے دنیا بھر میں سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
قیمتوں میں اس اچانک اور غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی اور سعودی آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ یہ بحری راستے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان عالمی تیل اور تجارت کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی براہ راست ذمہ دار قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا”اگر بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے نہ روکے گئے تو امریکہ حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت اور بڑی فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔”
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں شدید اضافہ ہو جائے گا، جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی تنبیہ کی ہے کہ اگر یہ کشیدگی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) تک پھیل گئی—جہاں سے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ خام تیل گزرتا ہے—تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ناقابلِ کنٹرول سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔





