لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

سعودی امریکہ جوہری معاہدہ،ٹرمپ نےنئی شرط رکھ دی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / ریاض: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ 30 سالہ سول جوہری تعاون کا معاہدہ اس وقت تک حتمی منظوری حاصل نہیں کر سکے گا جب تک سعودی عرب ابراہام معاہدے (Abraham Accords) میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم نہیں کر لیتا۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ یہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر عسکری مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی، بالکل اسی طرح جیسے متحدہ عرب امارات (UAE) کے ساتھ طے شدہ امریکی سول نیوکلیئر تعاون کے ماڈل میں شامل ہے۔

اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کو بجلی کی پیداوار اور شہری ضروریات کے لیے جدید جوہری ٹیکنالوجی اور تکنیکی معاونت فراہم کریں گی۔

کانگریس میں توثیق: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس 30 سالہ معاہدے کو توثیق کے لیے امریکی کانگریس بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

معاہدے کی خبر سامنے آتے ہی اسرائیل نے روایتی تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی نئی شرط عائد کر دی ہے۔

صدر ٹرمپ کی اس غیر متوقع شرط کے بعد معاہدے کی توثیق پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ تاحال سعودی عرب کی جانب سے اس پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، سعودی عرب کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ ایک آزاد اور قابلِ قبول فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

ابراہام معاہدے 2020ء میں امریکی ثالثی سے طے پائے تھے، جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔