لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

قطرکاعطیہ کردہ صدارتی طیارہ:سیکیورٹی تحفظات کےباعث’ایئرفورس ون’کی جدیدترین اپ گریڈیشن کافیصلہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے استعمال ہونے والے اور قطر کی جانب سے عطیہ کیے گئے نئے ‘ایئر فورس ون’ (Air Force One) طیارے میں سیکیورٹی اور مواصلاتی خامیوں کے پیشِ نظر وائٹ ہاؤس نے اس کی جلد از جلد اپ گریڈیشن (Upgradation) پر کام شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ انتظامیہ کے ان اندرونی تحفظات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں اعلیٰ حکام نے مشورہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران صدر ٹرمپ اس نئے طیارے میں اسرائیل جیسے اعلیٰ ترین سیکیورٹی خطرے والے علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں۔

رواں ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ اس نو تعمیر شدہ طیارے میں ترکی کا دورہ کر چکے ہیں۔ تاہم، ترکی سے واپسی پر انہوں نے نئے طیارے کی بجائے پرانے صدارتی طیارے کا انتخاب کیا، جس سے اس نئے جیٹ کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھے۔

وائٹ ہاؤس کا موقف: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ (Karoline Leavitt) نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا”نیا ایئر فورس ون صدر کے سفر کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ تاہم، اس میں مزید پیشرفت اور اپ گریڈیشن کا کام خریف (Fall) میں کیا جائے گا جس میں تقریباً ایک ماہ کا وقت لگے گا۔”

ایوی ایشن کے ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں نے ایک ماہ کے اندر طیارے کو امریکی صدارتی معیار کے مطابق سیکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے۔

دفاعی ماہر رچرڈ ابو العافیہ (Richard Aboulafia) کا کہنا ہے کہ”کسی بھی صدارتی طیارے کو بنیادی سیکیورٹی، مواصلات اور دفاعی سسٹمز سے لیس کرنے کے لیے سالوں درکار ہوتے ہیں۔ محض 30 دنوں میں کسی بھی طیارے میں کوئی بڑی سیکیورٹی تبدیلیاں کرنا ناممکن ہے۔”

قطر کی جانب سے دیا گیا یہ 400 ملین ڈالر مالیت کا جیٹ بنیادی طور پر ایک ‘عارضی برج’ (Bridge) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جب تک بوئنگ (Boeing) کمپنی 2028 تک دو نئے صدارتی طیارے تیار نہیں کر لیتی۔

صدر ٹرمپ نے خود اس طیارے کے اندرونی ڈیزائن اور سنہری ڈیکوریشن کی نگرانی کی تھی اور اسے “دنیا کا سب سے پرتعیش طیارہ” قرار دیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق اپ گریڈیشن سے قبل صدر ٹرمپ اسے صرف کم خطرے والے اندرونی دوروں یا آئرلینڈ جیسے ممالک کے سفارتکاری سفر کے لیے استعمال کریں گے۔