لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

میئرممدانی کےبیان پرٹرمپ کاسخت ردعمل،نیتن یاہوکی حمایت کااعلان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس کے لیے نیویارک آمد سے قبل ہی امریکی سیاست میں شدید حلچل مچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نیویارک آتے ہیں تو انہیں کسی بھی صورت گرفتار نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر نیتن یاہو کی کھلی حمایت کرتے ہوئے لکھا “نیتن یاہو کو امریکا میں کسی بھی شکل میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ وہ اس وقت ایران کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔”

صدر ٹرمپ کا یہ ردعمل نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کے قانونی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا نیویارک پولیس (NYPD) کو کسی غیر ملکی رہنما کی گرفتاری کا قانونی اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

میئر ظہران ممدانی نے واضح کیا کہ وہ قانون سے ہٹ کر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے اور صرف وہی کارروائی کریں گے جس کی آئین و قانون اجازت دے گا۔ اس سے قبل بھی ممدانی یہ موقف اختیار کر چکے ہیں کہ مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کے باعث نیتن یاہو کو ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت میں مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے میئر ممدانی کے بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ ادارہ جانبدارانہ رویہ اختیار کر رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے گرفتاری کی ان دھمکیوں کو سنجیدہ خطرہ قرار نہیں دیا اور کہا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024 میں کہا تھا کہ اسے ایسے شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔

ستمبر میں نیتن یاہو کی اقوام متحدہ اجلاس میں متوقع شرکت کے باعث یہ قانونی اور سیاسی تنازع آنے والے دنوں میں عالمی توجہ کا مزید مرکز بنا رہے گا۔