نیویارک(ویب ڈیسک): اگر آپ ورزش (ورک آؤٹ) کے دوران تھکن محسوس کرتے ہیں، تو چاکلیٹ کی خوشبو آپ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ معروف سائنسی جریدے فرنٹیئرز ان فزیالوجی (Frontiers in Physiology) میں شائع ہونے والی ایک جدید تحقیق کے مطابق، مزاحمتی ورزش (Resistance Exercise) سے پہلے اور اس کے دوران چاکلیٹ سونگھنے سے ورزش کرنے کی صلاحیت میں معمولی بہتری آ سکتی ہے۔
یہ ریسرچ 23 صحت مند اور نوجوان مردوں پر کی گئی جو باقاعدگی سے ہارڈ ورک آؤٹ (ٹیسٹوسٹیرون یا ویٹ ٹریننگ) کا تجربہ رکھتے تھے۔ تحقیق میں شامل تمام شرکاء کو ٹیسٹ سے پہلے کم از کم 10 گھنٹے تک بھوکا (Fasting) رکھا گیا۔ اس کے بعد محققین نے انہیں تین گروپس میں تقسیم کیا
پہلے گروپ کو 90 فیصد کوکو والی ڈارک چاکلیٹ کی خوشبو سنگھائی گئی۔
دوسرے گروپ کو 60 فیصد کوکو والی ملک چاکلیٹ کی خوشبو سنگھائی گئی۔
تیسرے (کنٹرول) گروپ کو بو کے بغیر سادہ پانی سنگھایا گیا۔
خوشبو سنگھانے کے بعد شرکاء سے ٹانگوں کی ورزش لیگ ایکسٹینشن (Leg Extension) کروائی گئی۔
تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر محمد نشردین بن نہارودین کے مطابق، ڈارک اور ملک چاکلیٹ کی خوشبو نے انسانی اشتہا (بھوک) پر مختلف اثرات مرتب کیے۔ ڈارک چاکلیٹ کی خوشبو سونگھنے والے نوجوانوں میں بھوک کی شدت اور کچھ کھانے کی خواہش نمایاں طور پر کم دیکھی گئی، جبکہ ورزش سے پہلے ان میں پیٹ بھرے ہونے کا احساس بڑھ گیا۔ دوسری طرف، ملک چاکلیٹ کی خوشبو شرکاء کو زیادہ پسند تو آئی لیکن اس سے بھوک میں کوئی واضح کمی نہیں آئی۔
تحقیق کا سب سے اہم اور حیران کن پہلو یہ تھا کہ چاکلیٹ کی خوشبو سونگھنے والے دونوں گروپس نے سادہ پانی سونگھنے والے گروپ کے مقابلے میں زیادہ مینوئل ریپیٹیشنز (Repetitions) مکمل کیے۔ ڈارک چاکلیٹ سونگھنے والوں نے اوسطاً 18 اور ملک چاکلیٹ سونگھنے والوں نے 9 زیادہ ریپیٹیشنز کیے۔ سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ زیادہ ورزش کرنے کے باوجود ان شرکاء نے اضافی تھکن یا زیادہ طاقت لگنے کی شکایت نہیں کی۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ جانی پہچانی غذاؤں کی خوشبو انسانی دماغ اور جسم پر نفسیاتی اثرات مرتب کرتی ہے۔ چونکہ چاکلیٹ کو ایک بھرپور غذا سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس کی خوشبو سونگھتے ہی جسم ممکنہ طور پر خود کو توانائی سے بھرپور محسوس کرنے لگتا ہے۔ تاہم، محققین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ابتدائی اور چھوٹے پیمانے پر کی گئی تحقیق تھی جس میں ہارمونز یا دماغی لہروں کا معائنہ نہیں کیا گیا، اس لیے اسے حتمی فٹنس مشورہ نہیں مانا جا سکتا اور بڑے پیمانے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔





