لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

وقارذکانےعالمی ٹریڈنگ مقابلےمیں پاکستان کا نام روشن کردیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: پاکستان کے معروف کرپٹو ایکسپرٹ اور ٹریڈر وقار ذکا نے ایک بار پھر عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا۔ وہ اس وقت جاری انٹرنیشنل ٹریڈ فائی ماسٹرز کمپیٹیشن (International TradFi Masters Competition) میں دنیا بھر کے نامور ٹریڈرز کو پچھاڑ کر پانچویں پوزیشن پر براجمان ہیں۔

اس باوقار مقابلے میں چین، جنوبی کوریا، امریکہ، جاپان اور پاکستان سمیت متعدد ممالک کے سولو (انفرادی) ٹریڈرز حصہ لے رہے ہیں۔ مقابلے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی ڈیمو اکاؤنٹ پر نہیں بلکہ ریل منی (حقیقی سرمائے) پر مبنی ہے۔ ہر شریک کو اپنی ذاتی رقم استعمال کرتے ہوئے مختلف مالیاتی مارکیٹوں میں آزادانہ ٹریڈنگ کرنی ہوتی ہے۔

مقابلے کے قوانین کے مطابق، ٹریڈرز کو روایتی اور ڈیجیٹل دونوں اثاثوں میں ٹریڈنگ کرنی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی ایک مارکیٹ کے بجائے یو ایس اسٹاکس، فاریکس، گولڈ، سلور اور کرپٹو کرنسیز سب میں فعال رہنا لازمی ہے۔ ٹریڈرز کو روزانہ ہر کیٹیگری میں کم از کم ایک ٹریڈ لازمی کرنی ہوتی ہے اور وہ اپنی پوزیشن کو زیادہ دیر کھلا نہیں رکھ سکتے۔ رینکنگ کا تعین ٹریڈز کی تعداد، مجموعی منافع اور رسک مینجمنٹ (سٹاپ لاس ہٹ ہونے کی کم ترین شرح) پر کیا جاتا ہے۔

مقابلے کے اختتام پر جیتنے والے خوش نصیب ٹریڈر کو جدید ترین ماڈل کی مرسڈیز جی ویگن (Mercedes G Wagon) دی جائے گی، جس کی مالیت ماڈل اور خصوصیات کے لحاظ سے 4 لاکھ سے 5 لاکھ امریکی ڈالرز (کروڑوں پاکستانی روپے) ہے۔ یہ گاڑی فاتح ٹریڈر کو اس کے ملک میں پہنچائی جائے گی۔ تازہ ترین لیڈر بورڈ کے مطابق چین پہلے، جنوبی کوریا دوسرے، امریکہ تیسرے اور جاپان چوتھے نمبر پر ہے جبکہ وقار ذکا پانچویں پوزیشن کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ مقابلے میں اب 6 دن باقی ہیں۔

وقار ذکا نے اس وقت پاکستان میں بٹ کوائن کی تعلیم متعارف کرائی تھی جب اس کی قیمت محض 268 ڈالرز تھی۔ انہوں نے 2019 میں ٹیلی ویژن پر یہ مؤقف اپنایا تھا کہ پاکستان کو ایک قومی بٹ کوائن ریزرو بنانا چاہیے اور ڈیجیٹل پاکستانی روپے کو بٹ کوائن کی پشت پناہی حاصل ہونی چاہیے۔ اس وقت ان کے نظریات کا مذاق اڑایا گیا، لیکن سالوں بعد جب امریکہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو بنانے کا اعلان کیا، تو پاکستانی عوام نے وقار ذکا کے وژن کو تسلیم کیا۔ وہ 2021 میں حکومتِ خیبر پختونخوا کے آفیشل کرپٹو ایڈوائزر بھی رہ چکے ہیں۔

جب پاکستان میں کرپٹو پر پابندی کا تاثر عام تھا، تو وقار ذکا نے کسی وکیل کے بغیر خود سندھ ہائی کورٹ میں کیس لڑا۔ ان کے دلائل کے بعد دسمبر 2020 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ وضاحت کرنی پڑی کہ بینک نے کرپٹو کرنسی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2017 میں شام اور برما کے متاثرین کے لیے کرپٹو کے ذریعے امداد پہنچائی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے فنڈز کی منتقلی کا طریقہ سکھایا۔

این ای ڈی یونیورسٹی کراچی سے سول انجینئرنگ اور بعد ازاں اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے بزنس کی تعلیم حاصل کرنے والے وقار ذکا کا ماننا ہے کہ ٹریڈنگ کوئی جوا نہیں بلکہ ریاضی اور شماریات (Mathematics and Statistics) کا کھیل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پروببلٹی، ڈیٹا اور رسک مینجمنٹ کو سمجھے بغیر کوئی بھی ٹریڈر بین الاقوامی سطح پر مقابلہ نہیں کر سکتا۔