لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

Immigration Experts Warn of Family Separation Under New Green Card Rules

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے ایک غیر متوقع اور اچانک فیصلے میں دہائیوں پرانی امیگریشن پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ میں موجود ایسے تمام غیر ملکی جو گرین کارڈ (مستقل رہائش) کے خواہشمند ہیں، انہیں اب اپنے آبائی ملک واپس جا کر وہاں سے درخواست دینا ہوگی۔ اس اچانک فیصلے نے تارکینِ وطن، قانونی ماہرین اور امدادی تنظیموں میں شدید تشویش اور الجھن پیدا کر دی ہے۔

امریکہ میں گزشتہ نصف صدی سے یہ قانون نافذ تھا کہ قانونی حیثیت میں داخل ہونے والے غیر ملکی (بشمول امریکی شہریوں سے شادی کرنے والے افراد، ورک ویزا اور اسٹوڈنٹ ویزا کے حاملین، اور سیاسی پناہ گزین) امریکہ کے اندر رہتے ہوئے ہی اپنے سٹیٹس کی تبدیلی (Adjustment of Status) اور گرین کارڈ کا پورا عمل مکمل کر سکتے تھے۔

یو ایس سی آئی ایس (USCIS) کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، جو غیر ملکی عارضی طور پر امریکہ میں ہیں اور مستقل رہائش کے لیے اپلائی کرنا چاہتے ہیں، انہیں سوائے “غیر معمولی حالات” کے، اپنے ملک واپس جانا پڑے گا۔ ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا:

“غیر تارکینِ وطن، جیسے طلبہ، عارضی ملازمین، یا سیاحتی ویزا پر آنے والے لوگ، ایک مخصوص مقصد اور مختصر وقت کے لیے امریکہ آتے ہیں۔ ہمارا نظام اسی لیے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ دورہ ختم ہونے پر وہ واپس جائیں۔ ان کے اس عارضی دورے کو گرین کارڈ کے عمل کے پہلے قدم کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔”

شہریت کے راستے کو بند کرنے کی کوشش
یو ایس سی آئی ایس (USCIS) کے سابق سینئر ایڈوائزر ڈوگ رینڈ نے اس اقدام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد بالکل واضح ہے۔ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ مستقل رہائش حاصل کرنے والے لوگوں کی تعداد کم کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ گرین کارڈ ہی آگے چل کر امریکی شہریت کا راستہ ہموار کرتا ہے، اور وہ اس راستے کو بلاک کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، ہر سال امریکہ کے اندر سے لگ بھگ 6 لاکھ افراد گرین کارڈ کے لیے درخواست دیتے ہیں۔

ایجنسی نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ تبدیلی کب سے لاگو ہوگی، اور کیا یہ ان لوگوں پر بھی اثر انداز ہوگی جن کے گرین کارڈ کے کیسز پہلے سے زیرِ التوا ہیں۔ تاہم، ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ امریکہ کو “معاشی فائدہ” پہنچا رہے ہیں یا جن کا قیام “قومی مفاد” میں ہے، انہیں شاید امریکہ میں رہ کر اپلائی کرنے کی اجازت ہو۔

خاندانوں کی مستقل علیحدگی کا خدشہ
یہ نئی پابندیاں ان اقدامات کے علاوہ ہیں جو انتظامیہ نے پہلے ہی درجنوں ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے یا ویزا پروسیسنگ روکنے کے لیے اٹھائے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان ممالک کے شہریوں کو واپس بھیجا گیا، تو ان کے لیے دوبارہ امریکہ آنا ناممکن ہو جائے گا۔

تارکینِ وطن کی بحالی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘ورلڈ ریلیف’ کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی خاندانوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ایک دوسرے سے جدا کر دے گی، کیونکہ کئی امریکی قونصل خانوں میں ویزا اپائنٹمنٹ کے لیے ایک سال سے زیادہ کا وقت لگتا ہے، جبکہ افغانستان جیسے ممالک میں امریکی سفارت خانہ اگست 2021 سے مکمل بند ہے۔

قانونی ماہرین اور امیگریشن وکلاء اس نئی پالیسی گائیڈ لائنز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کا اطلاق کن کن کیٹیگریز پر سخت ہوگا، تاہم ان کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے گرین کارڈ کے لیے اپلائی کرنے والے لاکھوں افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل جائے گا۔