لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

DeepSeek and Chinese AI Firms Accused of Stealing US AI Intellectual Property

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارت کاروں کو چینی کمپنیوں، بالخصوص AI اسٹارٹ اپ DeepSeek، کی جانب سے امریکی مصنوعی ذہانت کے لیبارٹریز سے دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property) چرانے کی کوششوں کے خلاف مہم چلانے کا حکم دے دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایک خفیہ سفارتی کیبل میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ کو چینی کمپنیوں کی جانب سے امریکی AI ماڈلز کی ‘ڈسٹلیشن’ (Distillation) پر گہری تشویش ہے۔

‘ڈسٹلیشن’ ایک ایسا عمل ہے جس میں بڑے اور مہنگے AI ماڈلز کے ڈیٹا کو استعمال کر کے کم لاگت والے طاقتور ماڈلز تیار کیے جاتے ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ Moonshot AI اور MiniMax جیسی چینی کمپنیاں بھی اس عمل میں ملوث ہیں۔

دوسری جانب، واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ الزامات اس کی ترقی کو روکنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چینی کمپنی ڈیپ سیک (DeepSeek) نے حال ہی میں اپنا نیا ماڈل V4 لانچ کیا ہے، جو ہواوے (Huawei) کی چپ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور چین کی اس شعبے میں بڑھتی ہوئی خود مختاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔