لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

Pakistan Facilitates Third-Country Trade to Iran Under New 2026 Order

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

اسلام آباد(ویب ڈیسک): امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث کراچی پورٹ پر پھنسے ہزاروں کنٹینرز کی منزل تک رسائی کے لیے پاکستان نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایران کے لیے چھ زمینی ٹرانزٹ روٹس باقاعدہ طور پر کھول دیے ہیں۔

وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ “ٹرانزٹ آف گڈز تھرو ٹیریٹری آف پاکستان آرڈر 2026” کے تحت اب تیسرے ممالک سے آنے والا سامان پاکستانی حدود سے سڑک کے ذریعے ایران منتقل کیا جا سکے گا۔

اس فیصلے کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ پاکستان کے موقع پر کیا گیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔

نامزد کردہ چھ راستے پاکستان کی تین بڑی بندرگاہوں (کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر) کو بلوچستان کے راستے ایرانی سرحد گبد اور تفتان سے جوڑیں گے۔ حکام کے مطابق گوادر-گبد راہداری سب سے مختصر راستہ ہے، جس سے ایران تک سفری وقت صرف 2 سے 3 گھنٹے رہ جائے گا اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 45 سے 55 فیصد تک کمی آئے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام افغانستان پر پاکستان کے انحصار کو ختم کر دے گا، جس کے ساتھ حالیہ سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ اب پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں اور مغربی ایشیا تک رسائی کے لیے افغانستان کے بجائے ایران کے راستے کو بطور متبادل استعمال کر سکے گا۔