واشنگٹن: وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک پروقار اسٹیٹ ڈنر اس وقت قہقہوں سے گونج اٹھا جب برطانوی بادشاہ شاہ چارلس سوم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے اپنے ہی انداز میں کرارا مگر مزاحیہ جواب دیا۔
صدر ٹرمپ کے اس پرانے جملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ “اگر امریکہ نہ ہوتا تو یورپی ممالک جرمن زبان بول رہے ہوتے”، شاہ چارلس نے برجستہ کہا: “مسٹر پریزیڈنٹ، اگر ہم (برطانوی) نہ ہوتے تو شاید آپ لوگ فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے۔” شاہ چارلس کا اشارہ امریکہ کی آزادی سے قبل برطانوی اور فرانسیسی استعماری طاقتوں کے درمیان براعظم پر قبضے کی جنگ کی طرف تھا۔
وائٹ ہاؤس کی تعمیرِ نو: شاہ چارلس نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے بنائے گئے 400 ملین ڈالر کے نئے بال روم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ “ہم برطانویوں نے بھی 1814 میں وائٹ ہاؤس کی ری ڈویلپمنٹ (آگ لگا کر) کرنے کی کوشش کی تھی۔”
بادشاہ نے اسٹیٹ ڈنر کو 1773 کی ‘بوسٹن ٹی پارٹی’ سے بہتر قرار دیا جب امریکیوں نے برطانوی چائے سمندر میں پھینک دی تھی۔
ٹرمپ نے بھی شاہ چارلس کو کانگریس میں شاندار خطاب پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ “آپ نے ڈیموکریٹس کو اپنی نشستوں سے کھڑا کر دیا، میں تو کبھی ایسا نہیں کر پایا۔”
شاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو دوسری جنگ عظیم کی برطانوی آبدوز ‘HMS Trump’ کا گھنٹہ (Bell) تحفے میں دیا اور کہا، “اگر کبھی ہماری ضرورت ہو تو بس یہ گھنٹی بجا دیجیے گا۔”





