لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

15 ہزارڈالرکےوی آئی پی ٹکٹس،ٹرمپ اورفیفا چیف کےتعلقات پرسوالات

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن : امریکی مینز فٹ بال ٹیم کے ورلڈ کپ ناک آؤٹ میچ سے قبل، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سال 2025 کے مالیاتی گوشواروں (Financial Disclosures) نے فیفا کے صدر جانی انفینٹینو (Gianni Infantino) کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات کو ایک بار پھر عالمی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق، فیفا کے صدر جانی انفینٹینو نے گزشتہ جولائی میں نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے “فیفا کلب ورلڈ کپ فائنل” کے لیے صدر ٹرمپ کو 10 وی آئی پی ٹکٹ تحفے میں دیے تھے، جن کی مالیت 15,000 امریکی ڈالرز تھی۔ ٹرمپ نے اس میچ میں شرکت کی تھی اور چیمپئن ٹیم (چیلسی) کو ٹرافی بھی پیش کی تھی۔

فیفا کے صدر نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ صدر ٹرمپ 19 جولائی 2026 کو میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ فائنل کے فاتح کو بھی ٹرافی پیش کریں گے۔

دوسری طرف، فیفا چیف اور امریکی صدر کے ان گہرے تعلقات پر عالمی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے 50 ارکان نے فیفا کو ایک باقاعدہ خط ارسال کیا ہے جس میں انسانی حقوق کی تنظیم ‘فیئر اسکوائر’ (FairSquare) کی اخلاقی شکایت پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ شکایت دسمبر 2025 میں صدر ٹرمپ کو دیے گئے پہلے “فیفا پیس پرائز” (FIFA Peace Prize) کے خلاف دائر کی گئی ہے۔ یورپی اراکینِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ فیفا کو اپنے “سیاسی غیر جانبداری اور شفافیت” کے اصولوں کو ثابت کرنا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق فیفا نے نیویارک کے مشہو “ٹرمپ ٹاور” میں اپنا نیا دفتر بھی کھولا ہے، جو ٹرمپ کی خاندانی کاروباری عمارت ہے۔ مالیاتی گوشواروں سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ کو مختلف سیاسی اتحادیوں اور اسپورٹس ایگزیکٹوز کی جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 120,000 ڈالرز مالیت کے کھیلوں کے ٹکٹ (بشمول سوپر باؤل اور یو ایس اوپن ٹینس) تحفے میں ملے ہیں۔

ورلڈ کپ 2026 چونکہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہو رہا ہے، اس لیے ویزا، سیکیورٹی اور سفارتی معاملات کے لیے امریکی حکومت کا فیفا کے ساتھ گہرا تعاون جاری ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) اور سیکریٹری داخلہ مارک وین مولن (Markwayne Mullin) سمیت کئی اعلیٰ حکام ورلڈ کپ کے میچز میں شرکت کر چکے ہیں۔

سیکریٹری داخلہ مارک وین مولن کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایران کی ٹورنامنٹ سے بے دخلی پر خوشی کا اظہار کیا، جس پر ایرانی فٹ بال حکام نے امریکی رویے پر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔