میلبورن / ایڈلیڈ: آسٹریلیا کے نامور فٹبالر اور ورلڈ کپ کے کھلاڑی ٹیٹے ینگی (Tete Yengi) نے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے اپنے خوبصورت اور ایمان افروز سفر کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ کس طرح مشہور اسلامی اسکالر مفتی مینک (Mufti Menk) سے ہونے والی ایک اچانک ملاقات ان کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ بن گئی۔
‘قلبی اسٹوڈیوز’ (Qalby Studios) اور ‘نجوم اسپورٹس’ (Nujum Sports) کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں آسٹریلوی اسٹرائیکر ٹیٹے ینگی نے بتایا کہ وہ ایڈلیڈ کی ایک مسجد کا دورہ کر رہے تھے، جہاں جمعے کی نماز کے بعد ان کی ملاقات عالمی شہرت یافتہ مبلغ مفتی اسماعیل مینک سے ہوئی۔
ٹیٹے ینگی کے مطابق، مفتی مینک کے ساتھ ان کی یہ ملاقات انتہائی یادگار ثابت ہوئی اور اسی دوران انہوں نے اپنی شہادت (Shahada) کا اعلان کیا۔ فٹبالر نے بتایا کہ ایک مختصر گفتگو کے دوران مفتی مینک نے ان سے پوچھا کہ “کیا آپ پہلے ہی اپنے ایمان (اسلام) کا اعلان کر چکے ہیں؟”
جب ٹیٹے ینگی نے نفی میں جواب دیا، تو مفتی مینک نے انہیں اسی وقت اور اسی جگہ کلمہ پڑھنے کی دعوت دی۔ آسٹریلوی فٹبالر نے اس پرمسرت دعوت کو دل سے قبول کیا اور مسجد میں موجود لوگوں کی موجودگی میں کلمہ طیبہ پڑھ کر باقاعدہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔
سوشل میڈیا اور کھیلوں کی دنیا میں ٹیٹے ینگی کے اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے اور دنیا بھر سے مسلمان شائقین انہیں مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔





