نیویارک(ویب ڈیسک) طویل عرصے سے زیرِ گردش ایپل (Apple) کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون (Foldable iPhone) کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے اس کی باقاعدہ دستیابی میں تاخیر کا امکان ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹیک جائنٹ ایپل رواں سال ستمبر میں اپنے روایتی ایونٹ کے دوران اس انقلابی فولڈ ایبل آئی فون کی رونمائی کر سکتا ہے۔ تاہم، سپلائی چین میں محدود پیداوار (Limited Production) کے باعث یہ ڈیوائس ابتدائی طور پر بہت کم تعداد میں دستیاب ہوگی اور بیشتر صارفین کو اسے خریدنے کے لیے 2027 تک کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس فون کو ممکنہ طور پر ‘آئی فون الٹرا’ (iPhone Ultra) کا نام دیا جائے گا، جس میں 5.5 انچ کی بیرونی اسکرین ہوگی جو فولڈ کھولنے پر 7.8 انچ کی بڑی ڈسپلے میں تبدیل ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فولڈ ایبل آئی فون کی متوقع قیمت 2300 سے 2500 امریکی ڈالر (تقریباً 6 لاکھ پلس پاکستانی روپے) کے درمیان ہوگی، جس کے بعد یہ ایپل کی تاریخ کا سب سے مہنگا آئی فون بن جائے گا۔
معروف ایپل تجزیہ کار منگ چی کوو (Ming-Chi Kuo) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ محدود اسٹاک کے باعث ایپل ستمبر میں فون کا اعلان تو کر دے گا، لیکن اس کی پری آرڈر بکنگ اور باقاعدہ فروخت کچھ عرصے بعد شروع ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال 2017 کے ‘آئی فون ایکس’ (iPhone X) جیسی ہو سکتی ہے، جس کی رونمائی ستمبر میں ہوئی تھی لیکن وہ مارکیٹ میں کئی ہفتوں بعد دستیاب ہو سکا تھا۔





