لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ایرانی سپریم لیڈرکی آخری رسومات کاآغاز: 7 روزہ سوگواری اور تدفین کاپلان جاری

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

تہران: ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا باقاعدہ آغاز تہران کے مرکزی مذہبی اور ثقافتی مرکز ‘امام خمینی مصلیٰ’ سے ہو چکا ہے۔ قتل کے چار ماہ سے زائد عرصے بعد شروع ہونے والی یہ رسومات 9 جولائی تک جاری رہیں گی، جس میں کروڑوں سوگواروں کی شرکت متوقع ہے۔

3 جولائی (بین الاقوامی خراجِ تحسین): دنیا بھر سے آئے ہوئے وفود اور عالمی رہنما ایران کے سابق رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

4 اور 5 جولائی (عوامی الوداع): تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں دو روزہ عوامی الوداع کا انعقاد کیا گیا ہے۔ 5 جولائی کی صبح مرکزی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ اس موقع پر سپریم لیڈر کے اہل خانہ کے تابوت بھی سوگواروں کے لیے رکھے جائیں گے۔

6 جولائی (تہران میں جلوس): دارالحکومت کی بڑی شاہراہوں پر جنازے کا جلوس نکالا جائے گا، جس کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

7 جولائی (قم): ایران کے مذہبی مرکز قم میں جنازے کا جلوس اور خصوصی دعائیہ تقریبات ہوں گی۔

8 جولائی (عراق – نجف و کربلا): میت کو عراق منتقل کیا جائے گا۔ صبح نجف اور سہ پہر کربلا میں جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے۔

9 جولائی (مشہد – حتمی تدفین): رسومات کا اختتام مشہد میں ہوگا، جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کو امام رضا کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ایرانی حکام کے مطابق، ان تقریبات کے لیے سکیورٹی اداروں اور پاسدارانِ انقلاب کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ایک کروڑ 20 لاکھ سے دو کروڑ افراد کی آمد کے پیشِ نظر 10 لاکھ سے زائد افراد کے لیے رہائش، خصوصی ‘شہری راہداری’ (Urban Corridor) اور زائرین کے لیے ہزاروں استقبالیہ کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔