لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

نیویارک میں محنت کشوں کے لیے گرمی سے بچاؤ کا تاریخی اقدام

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

تحریر: عاطف خان

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک سٹی کے میئر زہران کوامے ممدانی نے شہر کی تاریخ میں پہلی بار محنت کشوں کو شدید گرمی کی لہروں (Extreme Heat) سے بچانے کے لیے ایک تاریخی ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔ سٹی ہال میں لیبر یونینز، سماجی تنظیموں اور مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان کی موجودگی میں اس آرڈر پر دستخط کیے گئے، جو ممدانی انتظامیہ کے مزدور دوست وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میئر زہران کوامے ممدانی کا کہنا تھا”کسی بھی انسان کو اپنی روزی روٹی اور اپنی صحت میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔ نیویارک کی فلک بوس عمارتیں بنانے والے، ہمارے پارسل پہنچانے والے، اور سڑکوں پر کھانا بیچ کر شہر کا نظام چلانے والے مزدوروں کا یہ حق ہے کہ وہ ہر شفٹ کے بعد خیریت سے اپنے گھر لوٹیں۔ ماضی میں حکومتیں آنکھیں بند کر لیتی تھیں، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔”

ایگزیکٹو آرڈر کے اہم نکات:
کثیر اللسانی گائیڈ لائنز: محکمہ صحت (DOHMH) اور ایمرجنسی مینجمنٹ (NYCEM) رواں سال ہی باہر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے مختلف زبانوں میں حفاظتی گائیڈ لائنز جاری کریں گے، جبکہ انڈور (اندرونِ خانہ) کام کرنے والوں کے لیے یکم مارچ 2027 تک گائیڈ لائنز آئیں گی۔

لازمی حفاظتی پلان: ہر میئرل ایجنسی کو اپنے ملازمین اور کنٹریکٹرز کے لیے ہیٹ سٹروک سے بچاؤ کا منصوبہ بنانا ہوگا۔

تعمیراتی مقامات پر سختی: محکمہ عمارات (DOB) کنسٹرکشن سائٹس پر گرمی سے بچاؤ کے قوانین کو مزید سخت کرے گا۔

بنیادی سہولیات: آؤٹ ڈور ورکرز کے لیے واش رومز تک رسائی اور کام کے دوران رپورٹنگ کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا۔

نیویارک کی تاریخ میں پہلی بار، شہر بھر میں نصب 2,200 سے زائد ‘LinkNYC’ کیوسکس (kiosks) پر شدید گرمی کے دوران قریبی ‘کولنگ سینٹر’ کا 10 منٹ کی پیدل مسافت کا راستہ لائیو دکھایا جائے گا۔ یہ ڈیٹا سٹی کے ‘Cool Options Finder’ سے خودکار طور پر اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا۔

نیویارک کی ورک فورس کا ایک تہائی حصہ یعنی تقریباً 14 لاکھ ملازمین (کنسٹرکشن ورکرز، ڈلیوری بوائز، اسٹریٹ وینڈرز وغیرہ) گرمیوں میں باہر کام کرتے ہیں۔ نیویارک میں ہر سال تقریباً 500 اموات شدید گرمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

ڈپٹی میئر برائے ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز ہیلن آرٹیگا نے اس موقع پر کہا کہ یہ صرف موسم کا نہیں بلکہ سماجی انصاف کا مسئلہ ہے، کیونکہ سیاہ فام اور لاطینی نژاد مزدور اس شدید گرمی کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اس آرڈر کی تیاری میں TEMP الائنس، 32BJ SEIU اور نیویارک کمیٹی فار آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔