نیویارک: (ویب ڈیسک) فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز مقابلے میں بیلجیئم نے میزبان ملک امریکا کو 1-4 کے بڑے مارجن سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ پیر کی شب کھیلے گئے اس میچ میں امریکی ٹیم ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کے باوجود بیلجیئم کے جارحانہ کھیل کا مقابلہ نہ کر سکی۔
یہ میچ میدان میں کھیلے جانے سے قبل ہی شدید سفارتی اور سیاسی بحث کا مرکز بن چکا تھا۔ امریکی اسٹار کھلاڑی بالوگن (Folarin Balogun) کو پچھلے میچ میں ریڈ کارڈ ملنے کی وجہ سے معطلی کا سامنا تھا، لیکن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی خصوصی مداخلت پر فیفا (FIFA) نے ان کی معطلی کو عارضی طور پر مؤخر کرتے ہوئے انہیں میچ کھیلنے کی اجازت دے دی۔ بیلجیئم کی فٹبال ایسوسی ایشن نے فیفا کے اس یکطرفہ فیصلے کے خلاف باقاعدہ اپیل بھی دائر کی تھی، جسے فیفا انتظامیہ نے مسترد کر دیا۔
میچ کے آغاز سے قبل وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روایتی تیکھے انداز میں کہا تھا کہ دونوں ٹیمیں پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیں اور اگر بیلجیئم جیتا تو اسے اپنی جیت پر فخر ہونا چاہیے۔ تاہم، انہوں نے مسکراتے ہوئے ایک بڑا سیاسی جملہ کسا اور کہا کہ اگر امریکا یہ مقابلہ ہار گیا، تو وہ اسے ‘فکسڈ’ (Fixed) قرار دیں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں اس میچ کا موازنہ 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات سے کرتے ہوئے کہا، “اگر ہم ہارے، تو یہ میچ بھی 2020 کے الیکشن کی طرح فکسڈ ہوگا، البتہ میں اس پر زیادہ بات نہیں کروں گا۔” اب امریکا کی اس بڑی ہار کے بعد سوشل میڈیا پر ٹرمپ کا یہ بیان زبردست وائرل ہو رہا ہے۔
مقبول ترین
پاکستانی ٹیکنالوجی نےامریکا میں نئی تاریخ رقم کر دی
اوپن اےآئی کےسی ای او سیم آلٹمین ٹرمپ انتظامیہ کو AI کےجدیدترین ماڈل پربریفنگ دیں گے
نیویارکرزکیلئےبڑی خوشخبری،سرکاری گروسری اسٹورزپر30 فیصد رعایت
صدرٹرمپ کی ایران کودوبارہ”شدیدفوجی کارروائی”کی دھمکی
امریکا,ایران عارضی جنگ بندی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید کمی، برینٹ کروڈ 88 ڈالرسےنیچےآ گیا
نیویارک کےنجی ہائی اسکول میں ہیومنائیڈروبوٹ لانےکامتنازع منصوبہ معطل
فیفاورلڈکپ 2026: بیلجیئم نےمیزبان امریکاکو ورلڈکپ سےباہرکردیا
John Doe
نیویارک: (ویب ڈیسک) فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز مقابلے میں بیلجیئم نے میزبان ملک امریکا کو 1-4 کے بڑے مارجن سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ پیر کی شب کھیلے گئے اس میچ میں امریکی ٹیم ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کے باوجود بیلجیئم کے جارحانہ کھیل کا مقابلہ نہ کر سکی۔
یہ میچ میدان میں کھیلے جانے سے قبل ہی شدید سفارتی اور سیاسی بحث کا مرکز بن چکا تھا۔ امریکی اسٹار کھلاڑی بالوگن (Folarin Balogun) کو پچھلے میچ میں ریڈ کارڈ ملنے کی وجہ سے معطلی کا سامنا تھا، لیکن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی خصوصی مداخلت پر فیفا (FIFA) نے ان کی معطلی کو عارضی طور پر مؤخر کرتے ہوئے انہیں میچ کھیلنے کی اجازت دے دی۔ بیلجیئم کی فٹبال ایسوسی ایشن نے فیفا کے اس یکطرفہ فیصلے کے خلاف باقاعدہ اپیل بھی دائر کی تھی، جسے فیفا انتظامیہ نے مسترد کر دیا۔
میچ کے آغاز سے قبل وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روایتی تیکھے انداز میں کہا تھا کہ دونوں ٹیمیں پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیں اور اگر بیلجیئم جیتا تو اسے اپنی جیت پر فخر ہونا چاہیے۔ تاہم، انہوں نے مسکراتے ہوئے ایک بڑا سیاسی جملہ کسا اور کہا کہ اگر امریکا یہ مقابلہ ہار گیا، تو وہ اسے ‘فکسڈ’ (Fixed) قرار دیں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں اس میچ کا موازنہ 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات سے کرتے ہوئے کہا، “اگر ہم ہارے، تو یہ میچ بھی 2020 کے الیکشن کی طرح فکسڈ ہوگا، البتہ میں اس پر زیادہ بات نہیں کروں گا۔” اب امریکا کی اس بڑی ہار کے بعد سوشل میڈیا پر ٹرمپ کا یہ بیان زبردست وائرل ہو رہا ہے۔
تجویز کردہ
پاکستانی ٹیکنالوجی نےامریکا میں نئی تاریخ رقم کر دی
اوپن اےآئی کےسی ای او سیم آلٹمین ٹرمپ انتظامیہ کو AI کےجدیدترین ماڈل پربریفنگ دیں گے
نیویارکرزکیلئےبڑی خوشخبری،سرکاری گروسری اسٹورزپر30 فیصد رعایت
متعلقہ سٹوریز
پاکستانی ٹیکنالوجی نےامریکا میں نئی تاریخ رقم کر دی
اوپن اےآئی کےسی ای او سیم آلٹمین ٹرمپ انتظامیہ کو AI کےجدیدترین ماڈل پربریفنگ دیں گے
نیویارکرزکیلئےبڑی خوشخبری،سرکاری گروسری اسٹورزپر30 فیصد رعایت