واشنگٹن/تہران: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے ایران کو ایک بار پھر سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ یا تو ایران کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ کرے گا یا پھر “کام تمام کر دے گا”۔ دوسری جانب، ایران نے امریکی صدر کے اس بیان کو “خام خیالی” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
اوول آفس (Oval Office) میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، “ہم یا تو ایک ڈیل کرنے جا رہے ہیں یا پھر کام تمام کرنے جا رہے ہیں۔ اور کام تمام کرنا ہمارے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔ میں معاہدے کو ترجیح دوں گا کیونکہ میں 91 ملین (9 کروڑ سے زائد) لوگوں کو متاثر نہیں کرنا چاہتا۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا، “ہم صرف ایک گھنٹے میں ان کے پل گرا سکتے ہیں، ان کی توانائی کی سپلائی منقطع کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اب کوئی پیسہ نہیں بچا، اور ہم نے انہیں کوئی فنڈز فراہم نہیں کیے۔”
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر (Mohammad Baqer Zolqadr) نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں “خام خیالی اور وہم” قرار دیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا، “ایرانی عوام دھمکیوں کی زبان سے واقف نہیں ہیں۔ اس لیے ایرانی عوام سے احترام کے ساتھ بات کریں، ورنہ ہم دوسری زبان میں جواب دیں گے۔”
یہ شدید جملوں کا تبادلہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (Ayatollah Ali Khamenei) کے جنازے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ سے کمزور ہونے کے بجائے، ایرانی عوام سپر
یم لیڈر کے جنازے پر مزید متحد اور پرعزم نظر آئے۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی (Ceasefire) کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دینا تھا، تاہم گزشتہ ہفتے ہونے والے غیر مستقیم مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں۔





