لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

امریکہ کی 250ویں سالگرہ: صدرٹرمپ کاجشنِ آزادی کو’ٹرمپ ریلی’میں تبدیل کرنےپرتنازع

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن ڈی سی: امریکہ اپنی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے پر ‘سیمی کوئن سینٹینیئل’ (Semiquincentennial) جشن منا رہا ہے۔ تاہم، دارالحکومت واشنگٹن میں ہونے والی مرکزی تقریبات روایتی قومی یکجہتی کے بجائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی رنگ میں رنگنے کی وجہ سے شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے نیشنل مال پر ہونے والی ملک کی سب سے بڑی آتش بازی کو ایک بڑے سیاسی جلسے (Trump Rally) کے طور پر مشتہر کیا ہے، جسے ‘ٹریبیوٹ ٹو امریکہ’ کا نام دیا گیا ہے۔ صدارتی حریفوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یومِ آزادی جیسے غیر سیاسی موقع کو انتخابی مہم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

متعدد مشہور موسیقی کے بینڈز اور فنکاروں نے اس شو میں شرکت سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد اب وہاں ملٹری بینڈز اور صدر ٹرمپ کی پسندیدہ پلے لسٹ (جس میں ویلیج پیپل کا مشہور گانا ‘YMCA’ بھی شامل ہے) بجائی جائے گی۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ توڑنے والی تاریخ کی سب سے بڑی آتش بازی ہوگی، تاہم اس پر آنے والے اخراجات کو تاحال خفیہ رکھا گیا ہے۔

متوازی جشن اور پی بی ایس (PBS) کا فیصلہ:
امریکی پبلک براڈکاسٹر ‘پی بی ایس’ نے، جس کی فنڈنگ میں ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال کٹوتی کی تھی، دہائیوں پرانی روایت کو توڑتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی کی آتش بازی کو لائیو دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔

پی بی ایس اس سال اپنی لائیو کوریج تاریخی قصبے ‘کولونیل ولیمسبرگ’، ورجینیا سے کرے گا، جہاں ڈرون شو اور روایتی تاریخی انداز میں جشن منایا جا رہا ہے۔ ورجینیا 250 کی چیئرپرسن کارلی فیورینا کا کہنا ہے کہ “امریکہ کسی بھی ایک شخص یا صدر سے بہت بڑا ہے۔”

آئینی حدود کے مطابق، صدر ٹرمپ 2029 میں اپنی مدت پوری ہونے پر تیسری بار صدر بننے کے اہل نہیں ہوں گے کیونکہ امریکی آئین صدر کو دو سے زیادہ بار منتخب ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔