جنیوا: (ویب ڈیسک) سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی گورننس اور اس کے محفوظ استعمال پر پہلے دو روزہ ‘یو این گلوبل ڈائیلاگ’ (UN Global Dialogue on AI Governance) کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے کمپنیوں، ماہرین، محققین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس (Antonio Guterres) نے اپنے افتتاحی خطاب میں زور دیا کہ ترقی یافتہ ممالک اور بڑی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اے آئی (AI) تک اربوں پسماندہ لوگوں کی رسائی کو ممکن بنائیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا، “اگرچہ اے آئی ہمارے مستقبل کا محور ہے، لیکن ہمیں ایسا مستقبل چاہیے جہاں مشینیں معلومات تو فراہم کر سکیں، مگر حتمی فیصلہ اور اس کا جواب دہ صرف اور صرف انسان ہی ہو۔”
سیکرٹری جنرل نے بچوں کو ڈیجیٹل ہیرا پھیری اور استحصال سے بچانے کے لیے سخت ترین قوانین بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، “کوئی بھی بچہ غیر منظم اے آئی کے لیے تجرباتی چوہا (Guinea Pig) نہیں بننا چاہیے۔ ہم ادویات اور کھلونوں کو ٹیسٹ کیے بغیر بچوں تک نہیں پہنچنے دیتے، لیکن اے آئی ان کی تعلیم، دوستی اور نجی سوالات تک پہنچ چکی ہے۔”
اس کے تحت یو این نے تجویز کیا کہ:کمپنیاں بچوں کی مخصوص سیفٹی ٹیسٹنگ کے بغیر اے آئی سسٹم مارکیٹ میں نہ لائیں۔
بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف زیرو ٹالرینس (Zero Tolerance) ہو اور ایسی تصاویر بنانے پر مکمل پابندی ہو۔
اگر کوئی بچہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو، تو الگورتھم کو فوراً رک کر اسے حقیقی انسانی مدد سے جوڑنا چاہیے۔
سیکرٹری جنرل نے متنبہ کیا کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز (Data Centres) بہت بڑی مقدار میں بجلی اور پانی استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2030 تک تمام اے آئی کمپنیوں کے ڈیٹا سینٹرز کو قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) پر منتقل کیا جائے۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے عوامی فنڈنگ بڑھانے کا بھی اعلان کیا تاکہ ڈیجیٹل تقسیم کو ایک بڑے ترقیاتی اور سیکیورٹی بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔
اجلاس کے دوران معروف سائنسدان یوشوا بینجیو (Yoshua Bengio) نے بھی خبردار کیا کہ جدید اے آئی ماڈلز اب انسانوں کو دھوکہ دینے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہے ہیں، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ واضح رہے کہ اس سلسلے کا دوسرا عالمی مباحثہ مئی 2027 میں نیویارک میں منعقد ہوگا۔





