واشنگٹن / برلن(ویب ڈیسک): پینٹاگون نے جرمنی سے تقریباً 5,000 امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا باقاعدہ حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک میرز کے درمیان ایران جنگ اور دفاعی اخراجات پر جاری شدید لفظی جنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے فوجیوں کی واپسی کا حکم جاری کر دیا ہے، جو اگلے 6 سے 12 ماہ میں مکمل کر لی جائے گی۔
اس فیصلے کے بڑے اثرات رونما ہو سکتے ہیں۔
میزائل پروگرام کی منسوخی: طویل فاصلے تک مار کرنے والے ‘ٹوم ہاک’ (Tomahawk) میزائلوں کی تنصیب کا منصوبہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔
نیٹو کی کمزوری: ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام سے روس کے خلاف نیٹو کی دفاعی صلاحیت (Deterrence) متاثر ہو سکتی ہے۔
اقتصادی ضرب: صدر ٹرمپ نے جرمن گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی بھی دی ہے، جو جرمن معیشت کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب چانسلر فریڈرک میرز نے ایران کے ساتھ تنازع میں امریکہ کی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو تہران کے ہاتھوں “رسوائی” کا سامنا ہے۔ جواب میں صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر میرز کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے “تباہ حال ملک” کو ٹھیک کرنے اور روس-یوکرین جنگ ختم کرنے پر توجہ دیں۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ “ہم جرمنی سے اپنی فوج میں مزید کٹوتی کریں گے۔”
جرمنی یورپ میں امریکی افواج کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں اس وقت تقریباً 36,400 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہاں رامسٹائن (Ramstein) جیسی بڑی فضائی چھاؤنیاں اور اہم طبی مراکز موجود ہیں جو مشرق وسطیٰ میں زخمی ہونے والے فوجیوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کی موجودگی خود امریکہ کے مفاد میں بھی ہے، تاہم اب وقت آگیا ہے کہ یورپ اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری خود اٹھائے۔
