لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکامیں جولائی کےدوران 23 ہزارنوکریاں ختم، لیبرمارکیٹ سست روی کاشکار

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس (BLS) کی جانب سے جاری کردہ جولائی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکی لیبر مارکیٹ کو شدید سستی کا سامنا ہے۔ جولائی کے مہینے میں امریکی معیشت نے خلافِ توقع 23,000 نوکریاں گنوا دیں، جس سے لیبر مارکیٹ کے جمود کا شکار ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اگرچہ بے روزگاری کی شرح 4.2 فیصد سے معمولی کم ہو کر 4.1 فیصد پر آئی ہے، لیکن معاشی ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ لوگوں کا ملازمت کی تلاش چھوڑ کر لیبر فورس سے باہر نکلنا ہے۔ جولائی کا رپورٹ کردہ ڈیٹا معاشی ماہرین کی 95,000 نئی نوکریوں کی توقعات کے بالکل برعکس اور انتہائی مایوس کن رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نہ صرف جولائی کے اعداد و شمار خراب رہے بلکہ گزشتہ مہینوں کے ڈیٹا کو بھی نمایاں طور پر کم کیا گیا ہے:

جون میں پیدا ہونے والی نوکریوں کی تعداد 57,000 سے گھٹا کر صرف 20,000 کر دی گئی ہے۔

مئی میں نوکریوں کے اعداد و شمار تقریباً آدھے رہ گئے ہیں، جو 129,000 سے کم ہو کر 66,000 ہو گئے ہیں۔

ملازمین کی اجرتوں (Wages) میں اضافے کی شرح سست ہو کر 5 سال کی کم ترین سطح (3.2 فیصد) پر آ گئی ہے، جبکہ انفلیشن (ملازمت اور اشیاء کی قیمتیں) 3.5 فیصد ہونے کی وجہ سے مہنگائی نے ملازمین کی آمدنی کے اثرات کو ختم کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ سیکٹر میں زیادہ تر روزگار صرف ہیلتھ کیئر اینڈ سوشل اسسٹنس کے شعبے سے آیا، جہاں 22,600 نئی نوکریاں پیدا ہوئیں۔ دیگر شعبوں جیسے کہ کنسٹرکشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کچھ بہتری دیکھی گئی، لیکن لوکل گورنمنٹ (خصوصاً اسکولز) اور لیژر اینڈ ہاسپیٹلٹی (ہوٹل و سیاحت) کے شعبوں میں بھاری نقصان نے ان تمام فوائد کو ختم کر دیا۔

نیوی فیڈرل کریڈٹ یونین کی چیف اکانومسٹ ہیلتھر لانگ کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریک رپورٹ ہے جو واضح اشارہ دیتی ہے کہ لیبر مارکیٹ دوبارہ رک گئی ہے۔ آئل کی بلند قیمتوں، مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے استعمال اور معاشی پالیسیوں کے عدم استحکام کی وجہ سے بالخصوص آجر (Employers) نئی بھرتیوں کے معاملے میں انتہائی محتاط ہو چکے ہیں۔