لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

سابق صدر کےدفاعی وکیل کانیاکردار:ٹوڈبلانچ امریکی اٹارنی جنرل مقرر،امریکی سینیٹ نے توثیق کردی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی سینیٹ نے ہفتے کے روز ایک انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلے کے بعد 52 سالہ ٹوڈ بلانچ (Todd Blanche) کی بطور امریکی اٹارنی جنرل توثیق کر دی ہے۔ اس توثیق کے ساتھ ہی ٹوڈ بلانچ، جو پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل کے طور پر قانونی جنگیں لڑ چکے ہیں، اب باضابطہ اور مستقل طور پر امریکہ کے سب سے اعلیٰ قانونی و سیکیورٹی اہلکار بن گئے ہیں۔

امریکی سینیٹ میں ٹوڈ بلانچ کی توثیق کا ووٹ 50 کے مقابلے میں 49 ووٹوں کے باریک فرق سے ہوا۔ ریپبلکن پارٹی کی سینیٹرز سوسن کولنز اور لیزا مرکووسکی نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر نامزدگی کے خلاف ووٹ دیا۔

ٹوڈ بلانچ گزشتہ کچھ عرصے سے قائم مقام اٹارنی جنرل کے طور پر محکمہ انصاف (DOJ) کے امور چلا رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے محکمے کو صدر کے نقطہ نظر اور پالیسیوں کے مطابق ڈھالنے میں مرکزی کردار ادا کیا:

اہم مقدمات اور فردِ جرم: قائم مقام اٹارنی جنرل کا عہدہ سنبھالتے ہی ان کے دور میں سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی (James Comey) سمیت متعدد اہم سیاسی شخصیات کے خلاف فردِ جرم (Indictments) عائد کی گئیں۔

صحافیوں کو نوٹسز: صحافیوں کے ذرائع اور معلومات کا سراغ لگانے کے لیے قانونی سمن اور سبپونا (Subpoenas) جاری کیے گئے۔

تجربہ کار پراسیکیوٹرز کی برطرفی: محکمہ انصاف کے کئی سینئر اور تجربہ کار پراسیکیوٹرز اور حکام کو عہدوں سے برطرف کیا گیا۔

صدارتی اختیارات میں اضافہ: انہوں نے عدالتوں میں صدارتی اختیارات اور تحفظات کو وسعت دینے کے حق میں قانونی دلائل پیش کیے۔

سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، ٹوڈ بلانچ باضابطہ نامزدگی اور توثیق سے قبل ہی بطور ڈپٹی اٹارنی جنرل محکمے کے تمام اہم اجلاسوں کی صدارت کر رہے تھے اور روزمرہ کے انتظامی معاملات چلا رہے تھے۔ سینیٹ کے اس حالیہ ووٹ نے محض ان کی اسی اندرونی حیثیت پر باضابطہ مہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے قانونی دفاع سے لے کر ملک کے اعلیٰ ترین قانونی ادارے کی سربراہی سنبھالنے تک، ٹوڈ بلانچ کے اس نئے سفر پر امریکی سیاسی و قانونی حلقوں میں شدید بحث و مباحثہ جاری ہے۔