لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

مڈٹرم انتخابات سےقبل بڑی خبر:صدرڈونلڈٹرمپ کی مقبولیت کاگراف تاریخ کی نچلی ترین سطح 29 فیصدپرآگیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی مڈ ٹرم (مڈ ٹرم) انتخابات کی آمد سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح ان کی دونوں ادوارِ صدارت میں پہلی بار 30 فیصد سے بھی نیچے گر کر 29 فیصد کی نچلی ترین سطح پر آ گئی ہے۔

امریکہ کے معروف سروے ادارے ‘امریکن ریسرچ گروپ’ (American Research Group) کی جانب سے 16 سے 20 ستمبر کے درمیان 1,100 بالغ امریکی شہریوں پر کیے گئے تازہ ترین جائزے کے نتائج پیر کے روز جاری کیے گئے۔ نتائج کے مطابق، امریکی معیشت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کرنے والوں کی تعداد صرف 26 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 68 فیصد ووٹرز نے ان کے مجموعی کام کرنے کے طریقے کو ناپسند کیا ہے۔

سروے میں شامل 72 فیصد شہریوں کا کہنا تھا کہ پیٹرول (گیس) اور گروسری کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث امریکی معیشت مسلسل بگڑ رہی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ اس کا ملبہ سابقہ انتظامیہ پر ڈالتی رہی ہے، لیکن عوام اس موقف سے اتفاق کرتے دکھائی نہیں دیتے۔

صرف 20 فیصد سے کم شہریوں نے اپنی گھریلو مالی حالت کو بہتر قرار دیا، جبکہ 75 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے مالی حالات خراب ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہرین کے مطابق صارفین محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی قوتِ خرید تیزی سے کم ہوئی ہے۔

سروے کے مطابق 70 فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ آنے والے ایک سال میں معیشت مزید خراب ہوگی، جبکہ صرف 6 فیصد کو بہتری کی امید ہے۔ فروری 2025 میں صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس واپسی کے وقت معاشی امید کی جو لہر تھی، وہ اب مکمل ختم ہو چکی ہے۔

گیلپ (Gallup) کے تاریخی اعداد و شمار کے مطابق، اس سے قبل آخری بار کسی امریکی صدر کی مقبولیت 30 فیصد سے نیچے 2008 کے عالمی معاشی بحران کے دوران صدر جارج ڈبلیو بش کی صدارت کے آخری دنوں میں گئی تھی۔ صدر باراک اوباما کی اوسط مقبولیت 48 فیصد، جو بائیڈن کی 42.2 فیصد، جبکہ ٹرمپ کے دونوں ادوار کی اوسط تقریباً 41 فیصد رہی ہے۔

مڈ ٹرم انتخابات سے ٹھیک پہلے مقبولیت کے اس گراف کو ریپبلکن پارٹی اور وائٹ ہاؤس کے لیے ایک بڑا سیاسی دباؤ اور خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا رہا ہے۔