نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی (Zohran Mamdani) نے شہر کی سڑکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات کے پیشِ نظر ایمیزون (Amazon)، ٹارگٹ (Target)، والمارٹ (Walmart)، ٹیمو (Temu) اور ویفیئر (Wayfair) سمیت 40 سے زائد بڑے آن لائن و آف لائن ریٹیلرز کو غیر قانونی موٹرائزڈ اسکوٹرز اور ای بائیکس کی فروخت فوری بند کرنے کے لیے سیریز اینڈ ڈسسٹ (Cease-and-Desist) نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
میئر زہران ممدانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ “شہریوں کو محفوظ رکھنا اور نیویارک کے قوانین کے مطابق اشیاء کی فروخت کو یقینی بنانا ریٹیلرز کی ذمہ داری ہے۔ نیویارکرز یہ سوچ کر مصنوعات خریدتے ہیں کہ وہ قانونی ہیں، لیکن کمپنیوں کی جانب سے بھاری اسپیڈ والی موٹر سائیکلوں کو بائیکس بنا کر بیچا جا رہا ہے۔”
شہری انتظامیہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ 18 اگست کے بعد قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر رجسٹرڈ یا حد سے زیادہ رفتار والی ای بائیک فروخت کرنے والے اسٹورز پر فی فروخت 2,000 ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
میئر ممدانی کے مطابق یہ نوٹسز ان تمام گاڑیوں اور اسکوٹرز پر لاگو ہوتے ہیں جو نیویارک سٹی کی طے شدہ رفتار، واٹ (Watt) اور بغیر صحیح VIN نمبر کی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔
یہ سخت اقدام حال ہی میں لوئر مین ہیٹن میں پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس میں 17 سالہ گیبریل ناکاٹو (Gabriel Nacato) ای بائیک پر جاتے ہوئے ایک ایس یو وی (SUV) کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گیا تھا۔
میئر ممدانی نے بتایا کہ گیبریل جس ای بائیک پر سوار تھا وہ 30 میل فی گھنٹہ (30 mph) سے زائد رفتار سے چل سکتی تھی، جو بائیک لینز کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ نیویارک کے قانون کے مطابق ای بائیک کی رفتار کی حد 15 سے 25 میل فی گھنٹہ اور موٹر کی طاقت 750 واٹ سے کم ہونی چاہیے، جبکہ اسٹینڈ اپ اسکوٹر کا وزن 100 پاؤنڈ سے کم ہونا ضروری ہے۔
ڈیپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن کے کمشنر مائیک فلن نے کہا کہ “مینوفیکچررز اور آن لائن اسٹورز دراصل موٹر سائیکلوں کو عام سائیکلوں کا نام دے کر شہریوں کو دھوکہ دے رہے ہیں، جس پر اب مکمل قابو پایا جائے گا۔”





