اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس COP31 کے انعقاد میں تقریباً 60 دن باقی رہ گئے ہیں، تاہم عالمی سطح پر کانفرنس کی عملی تیاریوں اور موسمیاتی اہداف کے حصول پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) اور عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی تازہ رپورٹس کے مطابق دنیا 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے عارضی تجاوز کے خطرے کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ آئندہ برسوں میں درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کرنا عالمی ترجیح بن چکا ہے۔
UNEP کی ایمیشنز گیپ رپورٹ 2025 کے مطابق موجودہ قومی موسمیاتی اہداف پر مکمل عمل درآمد کے باوجود اس صدی کے دوران عالمی درجہ حرارت میں تقریباً 2.3 سے 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ بعض اندازوں میں یہ اضافہ 2.8 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی موافقت کے مالی وسائل کا بحران بھی سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ ایڈاپٹیشن گیپ رپورٹ 2025 کے مطابق 2035 تک ترقی پذیر ممالک کو سالانہ 310 سے 365 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ 2023 میں بین الاقوامی عوامی موسمیاتی فنڈنگ صرف تقریباً 26 ارب ڈالر رہی۔
رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کی مالی ضروریات موجودہ فنڈنگ سے کئی گنا زیادہ ہیں، جس سے موسمیاتی موافقت کے لیے دستیاب وسائل اور حقیقی ضروریات کے درمیان بڑا خلا واضح ہوتا ہے۔
دریں اثنا، COP31 کی میزبانی ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہوگی، جہاں عالمی موسمیاتی اہداف کے ساتھ بجلی کے استعمال، کچرے میں کمی اور شہروں کو موسمیاتی خطرات سے زیادہ محفوظ بنانے جیسے اقدامات پر بھی توجہ دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق کانفرنس کی کامیابی کا انحصار صرف نئے اعلانات اور وعدوں پر نہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کو بروقت اور قابلِ رسائی مالی وسائل فراہم کرنے، موسمیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور قدرتی آفات سے پیشگی تحفظ کے مؤثر نظام قائم کرنے پر ہوگا۔





