واشنگٹن: امریکی سیاست اور معیشت کے تناظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب ایک سوشل میڈیا پوسٹ سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے امریکہ بھر میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور افراطِ زر (Inflation) کا تمام تر ملبہ سابق صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں پر ڈال دیا ہے۔
پوسٹ میں ٹرمپ نے اس تاثر کو یکسر رد کیا کہ امریکہ میں موجودہ معاشی دباؤ یا مہنگائی ان کی وجہ سے ہے، بلکہ ان کے مطابق بائیڈن کے دورِ حکومت میں ناکام معاشی پالیسیوں کے باعث عام استعمال کی اشیاء اور توانائی کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور ایران سے متعلق متعدد سیاسی و معاشی دعوے پیش کیے:
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن کے انتظامی دور میں تیل کی قیمتیں موجودہ سطح سے کہیں زیادہ تھیں اور موجودہ دور میں توانائی کی قیمتوں کا بلند ہونا ایک “عارضی استثنا” (Temporary Exception) ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دورِ اقتدار میں ایران کو جوہری ہتھیار (Nuclear Weapons) حاصل کرنے سے مؤثر طور پر روکا گیا تھا
ٹرمپ نے پیشگوئی کی کہ ایران کے ساتھ جاری موجودہ فوجی تنازع کے ختم ہوتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئے گی اور یہ پیشرفت بہت جلد سامنے آنے والی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی موجودہ عارضی صورتحال کے علاوہ امریکہ میں دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
(واضح رہے کہ یہ رپورٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹ کے متن کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے اور اس میں شامل معاشی و سیاسی دعوؤں کی مستقل طور پر مستقل بنیادوں پر آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔)





