لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

مصنوعی ذہانت کےخطرات اورقانون سازی: ٹرمپ کےخلاف امریکی کانگریس میں شدیدردِعمل

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی نگران پالیسیوں اور پابندیوں کے معاملے پر امریکی کانگریس میں اپنی ہی جماعت کے اراکین اور ڈیموکریٹس کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

ٹیک انڈسٹری کے ماہرین اور سائنسی رپورٹس کی جانب سے اے آئی کے ممکنہ تباہ کن اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ ٹرمپ نے ان خدشات کو ‘من گھڑت کہانی’ (HOAX) اور ‘سازش’ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں موقف اپنایا تھا کہ اے آئی کے لیے کسی خاص قانون سازی یا پابندی کے بجائے صرف ایک “مضبوط اور ذہین صدر” کا ہونا کافی ہے۔

تاہم، دونوں سیاسی جماعتوں کے قانون سازوں نے اس بیان پر تشویش ظاہر کی ہے اور اے آئی پر فوری حکومتی کنٹرول اور حفاظتی قوانین بنانے پر زور دیا ہے۔

یہ سیاسی ہلچل اینتھروپک (Anthropic) کے محققین کی اس تنبیہ کے بعد تیز ہوئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اے آئی انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اینتھروپک کے سی ای او داریو اموڈئی (Dario Amodei) کے مطابق، چند ماہ میں اے آئی ایجنٹس کا ایک نیٹ ورک عالمی انٹرنیٹ پر سائبر حملہ کر کے اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس پر ردِعمل دیتے ہوئے ریپبلکن سینیٹر جان کینیڈی (John Kennedy) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک نیا بل پیش کرنے جا رہے ہیں جس کے تحت تمام اے آئی کمپنیوں کے لیے اپنے ماڈلز میں “کل سوئچ” (Kill Switch) شامل کرنا قانونی طور پر لازمی ہوگا۔

تاہم، کانگریس میں اس بات پر بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ آیا شدید سیاسی تقسیم کے باعث اے آئی کے حوالے سے کوئی جامع قانون فوری طور پر منظور ہو سکے گا یا نہیں، جبکہ کچھ قانون سازوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ زیادہ سخت قوانین امریکہ کو چین سے اے آئی کی دوڑ میں پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔