ویلز: برطانیہ کے آئینی ڈھانچے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ویلز کے دارالحکومت کارڈف میں اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی آزادی پسند سیاسی جماعتوں نے مشترکہ اجلاس کے بعد برطانیہ سے علیحدگی اور حقِ خودارادیت کے مطالبے کا باضابطہ اعادہ کر دیا ہے۔
ویلش دارالحکومت میں منعقدہ اجلاس میں ‘پلیڈ کمری’ (Plaid Cymru)، ‘اسکاٹش نیشنل پارٹی’ (SNP) اور ‘سِن فین’ (Sinn Féin) کے سینیئر رہنماؤں نے شرکت کی اور برطانیہ سے آزادی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں بریگزٹ، ویسٹ منسٹر کے معاشی ماڈل اور برطانوی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا:
اعلامیے میں نشاندہی کی گئی کہ تاریخ میں پہلی بار تینوں خطوں (اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ) میں ایسی فرسٹ منسٹر قیادت موجود ہے جو برطانیہ سے علیحدگی کے نظریہ کی حامی ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ بریگزٹ نے ان کی معیشتوں کو نقصان پہنچایا اور عوام سے مواقع چھین لیے۔ تینوں خطوں کا مستقبل یورپی یونین کے ساتھ جڑا ہے اور یورپ ہی ان کا مشترکہ گھر ہے۔
وائٹ ہال (Whitehall) کے معاشی ماڈل کو رد کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے وسیع وسائل کو عوامی فائدے کے لیے استعمال کرنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
اس پیش رفت کے باوجود برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم (Andy Burnham) اور ویسٹ منسٹر حکومت نے برطانیہ کے ٹوٹنے کی راہ ہموار کرنے والے تمام مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
10 ڈاؤننگ اسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ شمالی آئرلینڈ کے اتحاد یا اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے نئے ریفرنڈم کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں ہے۔
دی گارڈین کے حالیہ سروے کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں 47 فیصد، شمالی آئرلینڈ میں 36 فیصد اور ویلز میں 32 فیصد افراد نے اپنے ممالک کی آزادی یا برطانیہ سے علیحدگی کے تصور کی حمایت کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آئرلینڈ کے دورے کے دوران متحدہ آئرلینڈ کے قیام کی کھلی حمایت کی، جس نے اس آئینی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
اگرچہ اعلان میں فوری آزادی کا حکم نہیں دیا گیا، تاہم اس کارڈف کانفرنس کو برطانوی حکومت کے لیے ایک واضح اور مضبوط سیاسی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔





