انقرہ: ترکیہ کے اسپیکر پارلیمنٹ نعمان قورتلمش نے انکشاف کیا ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ“ (Makkah Joint Defence Agreement) آئندہ ماہ توثیق کے لیے ترکیہ کی پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سہ فریقی اتحاد مسلم دنیا کے لیے ایک وسیع تر دفاعی فریم ورک میں تبدیل ہو سکتا ہے جس میں ایران بھی شامل ہو سکتا ہے۔اگست میں دستخط کیے جانے والے اس معاہدے میں نیٹو (NATO) کی آرٹیکل 5 کی طرز پر یہ شق شامل ہے کہ “کسی ایک اتحادی ملک پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔” یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ و
سطیٰ میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے حملوں اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے باعث خطے کی سیکیورٹی کو شدید خدشات لاحق ہیں۔
ترکیہ کے اسپیکر نعمان قورتلمش نے انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے کی حتمی عملداری کے لیے پارلیمانی توثیق ضروری ہے۔ اکتوبر میں پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوتے ہی یہ معاملہ ایجنڈے پر لایا جائے گا۔
اسپیکر نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ ایران کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی اسے اس زاویے سے دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اور خطے کے دیگر مسلم ممالک اس اتحاد کا حصہ بن کر اسے مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے چیفس آف آرمی اسٹاف و ملٹری سربراہان کا ایک اہم اجلاس متوقع ہے جس میں ریاض کی سیکیورٹی ضروریات اور باہمی عسکری و فنی تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔
انقرہ حکام کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں جاری تنازعات اور اسرائیل کی شدید معاندانہ پالیسیوں کے مقابل مسلم ممالک کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا یہ اتحاد مسلم دنیا کے لیے ایک مضبوط اور مشترکہ دفاعی بلاک قائم کرنے کی جانب ایک اہم تاریخی پیش رفت ہے۔





