واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں برطانوی بادشاہ شاہ چارلس سوم اور ملکہ کامیلا کا شاندار استقبال کرتے ہوئے ایک حیران کن انکشاف کیا کہ ان کی والدہ میری ٹرمپ، جو اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئی تھیں، جوانی میں شاہ چارلس کو بہت پسند کرتی تھیں۔
وائٹ ہاؤس کے لان پر تقریر کرتے ہوئے 79 سالہ صدر ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا، “میری والدہ ٹی وی سے چمٹ جاتی تھیں جب بھی ملکہ الزبتھ نظر آتی تھیں، اور مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ کہتی تھیں کہ ‘چارلس کو دیکھو، نوجوان چارلس کتنا پیارا ہے’۔” اس موقع پر شاہ چارلس نے شرمندگی کا مزاحیہ اظہار کیا جس پر حاضرین نے قہقہے لگائے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر مذاقاً لکھا کہ ایک رپورٹ کے مطابق وہ شاہ چارلس کے دور کے کزن ہیں، اس لیے وہ ہمیشہ سے بکنگھم پیلس میں رہنا چاہتے تھے۔
وائٹ ہاؤس کے آفیشل ہینڈل سے ٹرمپ اور شاہ چارلس کی تصویر ‘دو بادشاہ’ (TWO KINGS) کے عنوان سے شیئر کی گئی، جس پر ناقدین نے ٹرمپ کے صدارتی اختیارات پر تنقید بھی کی۔
ایران جنگ پر برطانیہ اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ کے باوجود، ٹرمپ نے برطانیہ کو امریکہ کا ‘قریبی ترین دوست’ قرار دیا اور دونوں ممالک کی عسکری تاریخ کو سراہا۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ ورثے اور ‘اینگلو سیکسن بہادری’ کا ذکر کیا، جسے ماہرین ان کے نیشنلسٹ ایجنڈے کا حصہ قرار دے رہے ہیں





