نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے کونسلر سید عاطف رضا (Syed Atif Raza) نے ایٹمی ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے عالمی دن (International Day for the Total Elimination of Nuclear Weapons) کی مناسبت سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی فوجی اخراجات میں مسلسل اضافے، نئے جنگی ٹیکنالوجیز کے بے دریغ استعمال اور بین الاقوامی قوانین میں دہرے معیارات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستانی مندوب نے متنبہ کیا کہ جنگ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ادخال اور ہتھیاروں کی جدید کاری نے غیر مستحکم صورتحال پیدا کر دی ہے جس سے عالمی سیکیورٹی کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
جدید ٹیکنالوجیز اور خصوصاً جنگی امور میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال نے جنگ کا راستہ آسان کر کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
عالمی سطح پر قوانین اور ضوابط کا غیر مساوی اور انتخابی اطلاق کیا جا رہا ہے، جہاں اتحادیوں کو استثنیٰ دیا جاتا ہے جبکہ دیگر ممالک کو جبر اور دباؤ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ دہرے معیار عالمی اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
بعض ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کرنے کے بجائے بالادستی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، جو انتہائی خطرناک رویہ ہے۔
سید عاطف رضا نے اپنے خطے (جنوبی ایشیا) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی سیاسی مفادات اور سستی شہرت حاصل کرنے کا جنون ممالک کو تصادم کی طرف دھکیلتا ہے، جس کے ایٹمی نتائج پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔





