لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ملٹری آرٹیفیشل انٹیلی جنس(AI)اورایٹمی خطرات پرنگران انسانی کنٹرول کامطالبہ،جنیواڈس آرمامنٹ میں نامزدکونسلرہشام احمدکااہم خطاب

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

جنیوا / اسلام آباد (ویب ڈیسک):اقوامِ متحدہ کے جنیوا دفتر میں پاکستان کے مستقل مشن کے کونسلر ہشام احمد (Husham Ahmed) نے ‘تھیمیٹک ڈیبیٹ کلسٹر 5: دیگر تخفیفِ اسلحہ کے اقدامات اور بین الاقوامی سیکیورٹی’ سے خطاب کرتے ہوئے عسکری شعبے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Military AI) کے بے لگام استعمال، خودکار ویکٹرز اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والے نظاموں کے اختلاط پر عالمی برادری کو خبردار کیا ہے۔

پاکستان نے واضح کیا کہ ملٹری AI اب محض کوئی مستقبل کا مفروضہ نہیں رہا، بلکہ رواں سال فعال تنازعات اور جنگوں میں بڑے پیمانے پر AI پر مبنی ہدف بندی اور فیصلہ سازی کے سسٹمز کا استعمال کیا گیا ہے۔

کونسلر ہشام احمد نے زور دیا کہ موثر انسانی فیصلے اور کنٹرول کے بغیر خودکار سسٹمز غلط فہمی اور کشیدگی کے خطرات کو بڑھاتے ہیں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین (IHL) کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ “ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ ہمیشہ اور ہر حال میں انسانی ہاتھوں میں رہنا چاہیے”۔

پاکستان نے واضح کیا کہ عسکری AI کی عالمی گورننس کو اقوامِ متحدہ کے ہی تحت ہونا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کے دائرہ کار سے باہر کے اقدامات یا فارمز اس کے قانونی اور عالمگیر متبادل نہیں ہو سکتے۔

22 اکتوبر 2026 کو پاکستان نے سوئٹزرلینڈ اور UNIDIR کے ساتھ مل کر “آرٹیفیشل انٹیلی جنس، امن اور سیکیورٹی سینٹر آف ایکسیلنس فورم” کے باضابطہ آغاز کی مشترکہ میزبانی کی۔

پاکستان کی قومی ایکسپورٹ کنٹرول لسٹوں کو اکتوبر 2025 میں ازسرنو جدید بنایا گیا تھا اور وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG)، میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم (MTCR) اور آسٹریلیا گروپ کے معیار کے عین مطابق اور مکمل ہم آہنگ ہیں۔

آئی سی ٹی کے میدان میں ابھرتے ہوئے سیکیورٹی خطرات پر بات کرتے ہوئے پاکستان نے رواں سال اقوامِ متحدہ کے گلوبل میکانزم برائے ICT سیکیورٹی کے افتتاحی اجلاس کا خیرمقدم کیا اور اس میں تمام ممالک کے لیے یکساں صلاحیت کاری (Capacity building) پر زور دیا۔