واشنگٹن / نیویارک (ویب ڈیسک):اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلينری اجلاس میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی سالانہ رپورٹ پر بحث کے دوران پاکستان نے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی تک مساوی اور بلا تفریق رسائی (Equitable and non-discriminatory access) کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غیر پھیلاؤ (Non-proliferation) کے خدشات کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرے اور بقایا نگران مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرے۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی (Rafael Grossi) نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب، آرٹیفیشل انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹرز اور کاربن فری توانائی کی ضروریات کی وجہ سے 2060 تک عالمی ایٹمی توانائی کی صلاحیت میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے کونسلر سید عاطف رضا (Syed Atif Raza) نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے کا بانی رکن ہے اور 1957 سے اس کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان 6 ایٹمی پاور ری ایکٹرز چلا رہا ہے جو تمام کے تمام IAEA کی نگرانی اور سیف گاروڈز کے تحت ہیں، اور یہ ملکی بجلی کی 20 فیصد اور کم کاربن توانائی کی ایک تہائی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔
سید عاطف رضا نے اس بات پر زور دیا کہ بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے سول نیوکلیئر تعاون پر پابندیاں اور غیر ضروری رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں۔
رافیل گروسی اور سید عاطف رضا دونوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر تکنیکی خاکہ مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے فریقین سے سفارتی مذاکرات کی طرف فوری واپسی کی اپیل کی۔
آئی اے ای اے کے سربراہ نے شمالی کوریا کی جانب سے تحفظات کے بغیر نیوکلیئر پھیلاؤ اور یوکرین کے ‘زاپوریژیا’ (Zaporizhzhia) نیوکلیئر پاور پلانٹ کی نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔





