ڈرون حملوں کے سلسلے اور خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی جانب سے اپنی اہم ایسٹ-ویسٹ خام تیل کی پائپ لائن بند کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 108 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق برینٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمت پیر کے روز 3.25 فیصد اضافے کے ساتھ 108.03 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ڈرون حملے اور پائپ لائن کی بندش: یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے اندر توانائی کی تنصیبات پر متعدد ڈرون حملے کیے گئے، جس کے باعث سعودی حکام نے ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کو وقتی طور پر بند کر دیا۔ تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پائپ لائن چند دنوں میں نہ کھولی گئی تو برآمدات کے لیے تیل کے ذخائر ختم ہو سکتے ہیں۔
حوثی فورسز نے باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ میں واقع تزویراتی جزیرے پیریم (Perim Island) پر قبضہ کر کے آبی راستے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں عارضی تجارتی بحری راستہ بنانے سے متعلق خلیجی ممالک اور تہران کے درمیان مجوزہ اجلاس کے ملتوی ہونے سے بھی مارکیٹ کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اس راستے سے دنیا کا 20 فیصد تیل اور گیس گزرتی ہے۔
تیل کے ساتھ ساتھ گیس کی قیمتوں میں بھی یکدم برتری دیکھی گئی، برطانیہ کے بینچ مارک گیس کی قیمت 5 فیصد اضافے کے ساتھ 208.73 پینس فی تھرم تک جا پہنچی، جو دسمبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ محاذ آرائی اور سفارتی معاہدوں کے ناکام ہونے کے باعث توانائی کا عالمی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر مہنگائی (Inflation) کا نیا طوفان آ سکتا ہے، جس کے باعث امریکہ، برطانیہ اور جاپان کے مرکزی بینکس کی جانب سے شرحِ سود میں مزید ردوبدل متوقع ہے۔





