اقوامِ متحدہ / اسلام آباد (ویب ڈیسک): مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اور یکطرفہ بھارتی اقدامات کے 7 سال مکمل ہونے (یومِ استحصالِ کشمیر) کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ کا اہم مکتوب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی صدر اور ڈنمارک کی مستقل مندوب کرسٹینا مارکس لاسن (Christina Markus Lassen) کو پیش کر دیا گیا ہے۔
یہ خط اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کی صدارت کو ذاتی طور پر تسلیم کرایا۔
پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل کی توجہ بھارتی حکمرانوں کی ان سازشوں کی طرف مبذول کرائی گئی ہے جن کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی (Demographic)، سیاسی اور ثقافتی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں:
غیر مقامی افراد کو اب تک 34 لاکھ سے زائد ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں تاکہ مقامی کشمیریوں کو اقلیت میں بدلا جا سکے۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں: مقبوضہ وادی میں بلاجواز گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، تشدد اور عوامی آزادیوں پر پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ نیز PSA، AFSPA اور UAPA جیسے کالے قوانین کے بدترین استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے۔
حریت قیادت اور تنظیمیں: خط میں شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت سیاسی راہنماؤں، صحافیوں، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طویل اور غیر قانونی حراست کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ کشمیری عوام کی نمائندگی کرنے والی 16 سیاسی تنظیموں پر عائد پابندی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔
سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندیوں، دینی مدارس کی بندش، 215 کمیونٹی اسکولوں پر قبضہ، اور متنازع وقف (ترمیمی) ایکٹ پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
مکتوب میں متنبہ کیا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں 7 لاکھ سے 9 لاکھ مسلح افواج کی تعیناتی، پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیانیے، اور سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی معطلی جیسے اقدامات نے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی پاس کردہ قرار دادوں پر عمل درآمد کرائیں، بھارت کو 5 اگست 2019ء کے اقدامات واپس لینے پر مجبور کریں، اور تنازعہ کشمیر کے پرامن اور مستقل حل کے لیے اپنے اختیارات کا فعال استعمال کریں۔





