اسلام آباد: پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنے مکمل تعاون کا اعادہ کیا ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان حوثی حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور مکہ مکرمہ و دیگر مقدس مقامات پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے رابطہ کیا اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان مکہ معاہدے پر کاربند ہے تاہم اس کی آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔ علاوہ ازیں ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی اور لبنانی وزیرِ خارجہ کے دورے کے دوران باہمی مجرموں کے تبادلے کے ایم او یو پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
دفترِ خارجہ کے مطابق 15 ستمبر کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں بھارتی جہاز کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔ واقعے پر گزشتہ رات بھارتی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا جبکہ نئی دہلی میں بھی پاکستانی ناظم الامور بھارتی وزارتِ خارجہ میں ڈیمارش پیش کریں گے۔
پاکستانی سکھوں کو بھارت جانے سے روکنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ بھارت نے خود واہگہ بارڈر اور کرتارپور راہداری کو بند کر رکھا ہے جبکہ پاکستان نے رواں برس بیساکھی کے لیے 2800 سے زائد ویزے جاری کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے UNGA اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے جہاں اسلاموفوبیا، انسدادِ دہشت گردی، کشمیر اور فلسطین کا مقدمہ پیش کیا جائے گا۔
پاکستان میں قانونی ویزا اور تعلیمی اسناد رکھنے والے افغان طلبہ اپنا قیام جاری رکھ سکتے ہیں۔




