لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

NYPD Says ISIS-Inspired Suspects Planned IED Attack Near Gracie Mansion

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک پولیس اور وفاقی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ویک اینڈ میئر کی رہائش گاہ گریسی مینشن کے قریب ملنے والے دیسی ساختہ بم دراصل داعش سے متاثر دہشت گردی کی ایک مبینہ سازش کا حصہ تھے۔

پیر کو ہونے والی پریس بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ برآمد ہونے والے دھماکہ خیز آلات میں نہایت خطرناک مواد استعمال کیا گیا تھا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ تھا۔

پولیس کمشنر جیسیکا ٹش کے مطابق ایک بم میں TATP (ٹرائی ایسیٹون ٹرائی پر آکسائیڈ) نامی انتہائی حساس اور طاقتور دھماکہ خیز مادہ موجود تھا۔ حکام نے مزید بتایا کہ ایک سیاہ رنگ کی ہونڈا گاڑی سے تیسرا بم بھی برآمد کیا گیا جس میں نٹ بولٹ، پیچ اور فیوز نصب تھے تاکہ دھماکے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔

پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں دو مرکزی مشتبہ افراد کی شناخت کر لی ہے:

امیر بلات (18 سال)

ابراہیم قیومی (19 سال)

حکام کے مطابق دونوں نوجوان ریاست پنسلوانیا سے مبینہ طور پر حملہ کرنے کے ارادے سے نیویارک آئے تھے۔ انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف وفاقی سطح پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ میئر زوہران ممدانی نے بھی تصدیق کی کہ ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے تمام متعلقہ سامان ضبط کر لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہفتے کے روز ایک اسلام مخالف گروہ، جس پر انتہا پسند جیک لینگ کے اثرات بتائے جاتے ہیں، اور نسل پرستی کے خلاف سرگرم ایک گروپ کے درمیان تصادم ہوا۔

تفتیشی حکام کے مطابق مظاہرے کے دوران امیر بلات نے ایک آلہ جلایا اور اسے فضا میں اچھال دیا جس کے نتیجے میں آگ اور دھواں اٹھا۔

خوش قسمتی سے پولیس اہلکاروں کے قریب گرنے والا ایک بم پھٹنے سے پہلے ہی غیر فعال ہو گیا، جس سے ممکنہ بڑی تباہی ٹل گئی۔