گلگت / اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے سلسلہ قراقرم میں واقع دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی ’براڈ پیک‘ (8,047 میٹر) پر ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں عالمی شہرت یافتہ برطانوی نژاد نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا (نمزدائی) سمیت 10 کوہ پیما برفانی تودہ (Avalanche) گرنے سے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
نرمل پرجا کی کمپنی ”ایلیٹ ایکسپیڈیشنز“ (Elite Expeditions) اور ان کے بھائی کمل پرجا نے اس انتہائی افسوسناک خبر کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ 43 سالہ نرمل پرجا براڈ پیک پر ایک بین الاقوامی مہم جوئی کی قیادت کر رہے تھے جب وہ اس ناگہانی حادثے کا شکار ہوئے۔
پاکستانی حکام اور ریسکیو ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں:
نرمل پرجا (نمزدائی) (نیپال / برطانیہ)
میلوری گیس (امریکہ)
نذیرہ احمد عبداللہ الحارثی (عمان)
پور بہادر گرونگ (نیپال) شامل ہیں۔
حادثے میں 6 نیپالی اور 4 غیر ملکی کوہ پیما جاں بحق ہوئے ہیں۔ الپائن کلب آف پاکستان کی نمائندہ اور معروف کوہ پیما نائلہ کیانی کے مطابق دشوار گزار علاقے اور شدید خراب موسم کی وجہ سے لاشوں کی واپسی کے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نرمل پرجا کی ناگہانی موت پر دنیا بھر میں غم و غصے اور افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے:
برطانیہ کے شہزادہ ولیم: شہزادہ ولیم نے نرمل پرجا کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے ان کی برطانوی فوج اور کوہ پیمائی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
نیپال کے وزیراعظم: نیپالی وزیراعظم نے نرمل پرجا سمیت تمام 10 کوہ پیماؤں کی جرات اور عزم کو سراہتے ہوئے ان کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔
برطانوی وزیر دفاع نے نرمل پرجا کو ایک غیر معمولی اور الہام بخش شخصیت قرار دیا۔
نرمل پرجا (نمزدائی) نے برطانوی فوج کی اسپیشل فورسز میں 10 سال سمیت کل 16 برس خدمات انجام دیں۔ انہیں 2018ء میں برطانوی ملکہ کی جانب سے MBE کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔
وہ 2019ء میں اس وقت دنیا بھر میں مشہور ہوئے جب انہوں نے صرف 189 دنوں (6 ماہ اور 6 دن) میں دنیا کی تمام 14 اٹھاری (8,000 میٹر سے بلند) چوٹیاں سر کر کے عالمی ریکارڈ بنایا۔ ان کے اس کارنامے پر مشہور نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری ”14 Peaks: Nothing Is Impossible“ بنائی گئی جس نے دنیا بھر میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔
حادثے سے چند روز قبل سوشل میڈیا پر اپنی آخری پوسٹ میں نرمل پرجا نے لکھا تھا کہ اگر وہ براڈ پیک سر کر لیتے تو وہ بغیر اضافی آکسیجن کے دنیا کی تمام 14 بلند ترین چوٹیاں دوسری مرتبہ سر کرنے والے دنیا کے پہلے انسان بن جاتے۔ بدقسمتی سے ان کا یہ تاریخی خواب ہمیشہ کے لیے ادھورا رہ گیا۔





