کراچی (ویب ڈیسک): کراچی میں میر رضا کی پراسرار موت کے مقدمے کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق واقعے سے متعلق مختلف زاویوں پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی سینے کے مقام پر لگی، تاہم تفتیشی ٹیم اس پہلو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے کہ آیا گولی شاید پیچھے سے لگی ہو۔
تفتیشی ذرائع کی ابتدائی معلومات کے مطابق میر رضا نے مبینہ طور پر سیکیورٹی گارڈ کا اسلحہ لیا تھا۔ میر رضا کی لاش کی موجودگی کی سب سے پہلی اطلاع قریب موجود ایک نرسری والے نے دی۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ لاش ملنے کے مقام کے قریب واقعے کے وقت مشکوک موٹر سائیکل سوار افراد کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں، جن کی تلاشی اور شناخت کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔
تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ موت سے قبل میر رضا کے پاس 40 ہزار روپے موجود تھے، تاہم گھر سے نکلتے وقت انہوں نے اپنے ساتھ صرف ایک ہزار روپے رکھے تھے۔
میر رضا اپنی اسمارٹ واچ (Smartwatch)، والٹ (پرس) اور گاڑی گھر پر ہی چھوڑ کر گئے تھے۔
ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ میر رضا مختلف لوگوں کے مقروض بھی تھے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق واقعے کو کافی وقت گزرنے کے باوجود اب تک استعمال ہونے والا اسلحہ اور گولی کا خول (کارتوس) برآمد نہیں ہو سکا ہے۔
کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پولیس نے اب تک 15 سے زائد افراد کے باضابطہ بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا کی حتمی میڈیکل رپورٹ آج جبکہ موبائل فون کی فرانزک ڈیٹا رپورٹ اگلے ایک سے دو دنوں میں تفتیشی حکام کو موصول ہو جائے گی، جس کے بعد کیس میں مزید پیشرفت متوقع ہے۔





