جکارتا (ویب ڈیسک): انڈونیشیا کے جزیرے مدورا (Madura Island) کے قریب ایک مسافر بردار بحری جہاز میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد ہلاک جبکہ 41 افراد لاپتا ہو گئے ہیں۔
انڈونیشیا کی نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی (Basarnas) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ افسوسناک حادثہ اتوار کی صبح اس وقت پیش آیا جب مسافر بردار بحری جہاز مشرقی جاوا کے شہر سورابایا (Surabaya) سے جنوبی سولاویسی کے شہر مکاسر (Makassar) کی طرف جا رہا تھا۔
حکام نے بتایا کہ بحری جہاز پر مجموعی طور پر 271 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اب تک 225 افراد کو بحفاظت سمندر سے نکال لیا ہے، جبکہ 5 مسافروں کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔
ایجنسی کے مطابق باقی 41 لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سمندر میں وسیع پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں جدید کشتیوں اور غوطہ خوروں کی مدد سے متاثرہ علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز میں آگ لگنے کی حتمی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ انڈونیشین حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ مدورا جزیرہ جاوا کے شمال مشرقی ساحل کے قریب واقع ہے۔ انڈونیشیا ہزاروں جزائر پر مشتمل ملک ہے جہاں عوام کی بڑی تعداد ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کے لیے بحری جہازوں اور فیریز کا استعمال کرتی ہے۔ تاہم، گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کرنے اور حفاظتی انتظامات کے نامناسب ہونے کی وجہ سے ماضی میں بھی ایسے متعدد دردناک حادثات پیش آتے رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں سے رابطہ قائم کر لیا گیا ہے اور جب تک تمام لاپتا افراد کی تلاش مکمل نہیں ہو جاتی، امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔





