Fuel Crisis Pushes Pakistan to Impose Strict Market Timings

توانائی بچت پلان کے ساتھ ساتھ حکومت نے ہفتے میں 4 دن کام، سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی اور فیول الاؤنسز میں کٹوتی کی تجاویز پر بھی عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔

Editor News

اسلام آباد(ویب ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی منڈی میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر، وفاقی حکومت نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 7 اپریل (کل) سے تمام مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کر دیے جائیں گے۔

وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق یہ پابندی پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فوری طور پر لاگو ہوگی۔

رات 8 بجے بند ہوں گے۔ (خیبر پختونخوا کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں رات 9 بجے تک رعایت ہوگی)۔

ریسٹورنٹس اور بیکریاں: رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گی۔رات 10 بجے کے بعد کسی بھی تقریب کی اجازت نہیں ہوگی۔ میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

سندھ حکومت نے فی الحال اس حوالے سے حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے پیٹرولیم قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے گلگت اور مظفر آباد میں ایک ماہ کے لیے بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یاد رہے کہ عالمی حالات کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 458.41 روپے اور ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد حکومت نے لیوی میں کمی کر کے عارضی طور پر پیٹرول 378 روپے فی لیٹر کیا ہے۔

عالمی توانائی کا یہ بحران 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوا، جس کے جواب میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بحری ٹریفک کی معطلی نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر کی۔

توانائی بچت پلان کے ساتھ ساتھ حکومت نے ہفتے میں 4 دن کام، سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی اور فیول الاؤنسز میں کٹوتی کی تجاویز پر بھی عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *