نیویارک: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے چند ہفتے قبل نیویارک سٹی کی ہوٹل انڈسٹری اور ہزاروں ملازمین کے لیے ایک بڑی اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہوٹل یونین نے ایک نئے آٹھ سالہ تاریخی معاشی معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد شہر میں ممکنہ ہڑتال کا بڑا خطرہ مکمل طور پر ٹل گیا ہے۔
یہ اہم معاہدہ ہوٹل اینڈ گیمنگ ٹریڈنگ کونسل (HTC)، اے ایف ایل، سی آئی او اور ہوٹل ایسوسی ایشن آف نیویارک (HANYC) کے درمیان طے پایا۔ اس کامیابی پر مقامی سیاسی اور کاروباری رہنماؤں نے ہوٹل ایسوسی ایشن کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ورلڈ کپ جیسے بڑے عالمی ایونٹ سے پہلے ہڑتال ہوتی، تو اس سے نیویارک کی معیشت، سیاحت، ہوٹل انڈسٹری اور لگ بھگ چار لاکھ افراد کے روزگار کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
نیویارک سٹی کے مئیر ظہران ممدانی نے اس معاہدے کو معیشت اور محنت کش طبقے کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا:
“یہ معاہدہ اس بات کی ضمانت ہے کہ شہر کو چلانے والے لوگ بھی یہاں ایک باعزت زندگی گزار سکیں گے۔”
سٹی کونسل کی اسپیکر جولی مینن نے بھی دونوں فریقین کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ معاہدہ نیویارک کی معاشی سرگرمیوں کے استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔
ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر اور سی ای او وجے ڈانڈا پانی نے انڈسٹری کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سخت معاشی دباؤ، بلند ٹیکسوں اور کووڈ کے بعد سے اب تک 20 ہزار ہوٹل رومز کی کمی کے باوجود نیویارک کی ہوٹل انڈسٹری اپنے ملازمین کو ملک کی بہترین تنخواہیں اور سہولیات فراہم کرتی رہے گی۔ دوسری جانب یونین کے صدر رش میراکو کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ نہ صرف بہترین تنخواہوں اور طبی سہولیات کی ضمانت دیتا ہے بلکہ ملازمین کے تحفظ کے لیے ملک بھر میں ایک مثال بنے گا۔
تنخواہوں میں اضافہ: غیر ٹِپ حاصل کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں مجموعی طور پر 21.20 ڈالر کا اضافہ کیا جائے گا، جس میں ہر سال اوسطاً 5 فیصد اضافہ شامل ہے۔
ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے تقریباً مکمل طور پر مفت ہیلتھ انشورنس کی سہولت برقرار رہے گی۔
نئے فنڈز کا قیام: ملازمین کے لیے نئی ہاؤسنگ اور چائلڈ کیئر فنڈز قائم کیے جائیں گے۔
چھٹیاں اور دیگر مراعات: نئے والدین کے لیے مکمل تنخواہ کے ساتھ ‘فیملی لیو’، اضافی چھٹیاں، اور مقامی، ریاستی و وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے باقاعدہ تنخواہ کے ساتھ چھٹی کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔
کاروباری اور کمیونٹی تنظیموں، بشمول کریبین امریکن چیمبر آف کامرس کے صدر ڈاکٹر جین جوزف، یمنی امریکن مرچنٹس ایسوسی ایشن کے عہدیدار جوئل فیلیسیانو، گاری فیونا کولیشن یو ایس اے کے چیئرمین جوزے فرانسسکو اویلا، اور کوینز ہسپینک چیمبر آف کامرس نے بھی اس معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔
رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے لاطینی، یمنی اور برونکس و کوینز میں مقیم ہزاروں تارکینِ وطن خاندانوں اور چھوٹے کاروباروں کو براہِ راست تحفظ اور فائدہ ملے گا۔
یاد رہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر سے لاکھوں سیاح فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے نیویارک پہنچ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس سے نہ صرف ہوٹل انڈسٹری بلکہ مقامی ریستورانوں، دکانوں اور چھوٹے کاروباروں کو بھی بڑا معاشی استحکام ملے گا۔
