واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصنوعی ذہانت (AI) تیار کرنے والی معروف امریکی کمپنی ‘اینتھروپک’ (Anthropic) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ڈاریو اموڈائی (Dario Amodei) کے درمیان وائٹ ہاؤس کی صدارتی رہائش گاہ میں ایک اہم ملاقات طے پائی ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات اور سیکورٹی کے مسائل پر دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔
کلاوڈ (Claude) چیٹ بوٹ بنانے والی کمپنی کے سربراہ ڈاریو اموڈائی نے حال ہی میں ایک مضمون کے ذریعے اے آئی (AI) کی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ اس سے جڑے خطرات کا تدارک کیا جا سکے، تاہم صدر ٹرمپ اس سے قبل اے آئی کی رفتار سست کرنے سے متعلق تحفظات کو مسترد کر چکے ہیں۔
ڈاریو اموڈائی نے حال ہی میں لکھا تھا: “ہمیں اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں میں اضافے کی رفتار کو تھوڑا سست کرنا چاہیے تاکہ حاصل ہونے والے وقت کا درست استعمال کیا جا سکے”۔ ان کا یہ بیان ان کے ایک محقق کے استعفے کے بعد سامنے آیا تھا جس نے انسانیت کے لیے اے آئی کے شدید خطرات سے خبردار کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق: “صدر ٹرمپ کا موقف واضح ہے کہ امریکہ ‘سپر انٹیلی جنس’ (Super Intelligence) کی دوڑ میں دنیا کی قیادت کرے گا جبکہ امریکی صارفیں کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا”۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اینتھروپک کمپنی کا امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ساتھ شدید قانونی تنازعہ چل رہا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کی اپیلز کورٹ نے 2-1 کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے پینٹاگون کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں اینتھروپک کو “سپلائی چین سیکیورٹی رسک” (Supply Chain Risk) قرار دیا گیا ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ (Pete Hegseth) نے عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے ایکس (ٹویٹر) پر لکھا: “تصدیق ہو گئی: اینتھروپک = سپلائی چین رسک۔ محکمہ جنگ ملک اور اپنے جوانوں کے بہترین مفاد میں کام کرتا ہے”۔
ڈاریو اموڈائی کو چینی صدر شی جنپنگ کے اعزاز میں دیے گئے اسٹیٹ ڈنر میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، جہاں اوپن اے آئی کے سام آلٹمین، ایمازون کے جیف بیزوس اور میٹا کے مارک زکربرگ موجود تھے۔





