نیویارک:nشمالی امریکہ کی سب سے بڑی کیریبین ثقافتی تقریبات، “ویسٹ انڈین امریکن ڈے پریڈ” اور “J’Ouvert” کے پُرامن انعقاد کے لیے نیویارک انتظامیہ نے فول پروف سیکیورٹی پلان کا اعلان کر دیا ہے۔
بروکلین میوزیم میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران میئر نیویارک زوہران کواَمی ممدانی، پولیس کمشنر جیسیکا ٹش، پبلک ایڈووکیٹ جومانے ولیمز اور منتظمین نے شہر کے شہریوں کو حفاظتی تدابیر کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
یہ تقریبات پیر 7 ستمبر 2026ء کو بروکلم کے ایسٹرن پارک وے اور اطراف کی شاہراؤں پر منعقد ہو رہی ہیں، جس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
میئر زوہران ممدانی نے بتایا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس بار سیکیورٹی دائرہ کار بڑھا کر 5 اضلاع اور 20 زونز (پچھلے سال سے 7 زیادہ) تک پھیلا دیا گیا ہے۔
‘کرائسز مینجمنٹ سسٹم’ (CMS) کے 337 اراکین پر مشتمل 8 ٹیمیں تنازعات کے حل، ہجوم کے انتظام اور ہنگامی حالات کو روکنے کے لیے فیلڈ میں متحرک کر دی گئی ہیں۔
حساس مقامات پر موبائل طبی و امدادی یونٹس بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
پولیس کمشنر جیسیکا ٹش نے واضح کیا کہ تشدد اور ہوائی فائرنگ کے واقعات کی روک تھام کے لیے “زیرو ٹالرنس” کی پالیسی اپنائی جائے گی۔
سحر انگیز جشن ‘J’Ouvert’ میں شرکت کے لیے صرف 13 مخصوص راستے ہوں گے جہاں مائل میگنیٹو میٹرز کے ذریعے ہر شہری کی تلاشی لی جائے گی۔
ڈرون، اسلحہ، الکحل، بڑے بیگز، چھتریاں، اسکوٹر، اور بلاک کرنے والی تمام اشیاء لانے پر پابندی ہوگی۔
ویسٹ انڈین ڈے پریڈ کا باضابطہ اختتام شام 5:30 بجے لازمی کر دیا جائے گا تاکہ اندھیرا ڈھلنے کے بعد کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
نیویارک پولیس (NYPD) ڈرونز، کے-9 (K-9) اسکواڈ، ایوی ایشن اور کاؤنٹر ٹیررازم ٹیموں کے ذریعے پورے روٹ کی نگرانی کرے گی۔
صحافیوں کی جانب سے ‘آئس’ (ICE) کی ممکنہ کارروائی سے متعلق خدشات کا جواب دیتے ہوئے پولیس کمشنر جیسیکا ٹش اور میئر ممدانی نے واضح کیا کہ NYPD سول امیگریشن قوانین کے تحت کوئی کارروائی یا اشتراک نہیں کرتی، لہٰذا تمام شہری بغیر کسی خوف کے اس ثقافتی جشن میں شرکت کریں۔





