لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

برازیل میں صدارتی انتخابات سے قبل امریکی مداخالت کا بڑا تنازع: اٹارنی جنرل کی جانب سے مجرمانہ تحقیقات کا آغاز

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

برازیل:برازیل کے صدارتی انتخابات سے صرف تین دن قبل، ملک کے اٹارنی جنرل جارج میسیاس (Jorge Messias) نے غیر ملکی مداخلت کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کے جمہوریت اور اداروں میں بیرونی مداخالت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ‘دی گارڈین’ کی جانب سے شائع کردہ ایک سنسنی خیز رپورٹ کے بعد برازیلی حکام نے باضابطہ طور پر مجرمانہ شکایت درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ اپنے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے انسانی حقوق فنڈز سے 175 ملین ڈالر میں سے 10 لاکھ ڈالر کا ایک گرانٹ پروجیکٹ برازیل کی سپریم کورٹ کے خلاف چلنے والی مہم کی فنڈنگ کے لیے استعمال کر رہی تھی، جس کا مقصد برازیلی عدالتِ عظمیٰ پر “عدالتی تجاوز اور سنسرشپ” کے الزامات عائد کرنا تھا۔

برازیل میں صدارتی انتخابات میں اب صرف 3 دن باقی ہیں، جہاں موجودہ بائیں بازو کے صدر لوئس اناسیو لولا ڈی سلوا (Lula da Silva) اور ان کے سخت ترین حریف، سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے اور ٹرمپ کے اتحادی فلاویو بولسونارو (Flávio Bolsonaro) کے درمیان کانٹے دار مقابلہ جاری ہے۔

جارج میسیاس نے ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ “حکومتوں کے درمیان اختلافِ رائے بین الاقوامی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن غیر ملکی سیاسی مفادات کا برازیل کے اداروں پر اثر انداز ہونا یا برازیلی عوام کے فیصلوں میں مداخلت کرنا ناقابلِ برداشت ہے۔”

برازیل کی راست باز سپریم کورٹ اور بالخصوص جج الیگزینڈر ڈی مورائس (Alexandre de Moraes) کو بولسونارو کی دائیں بازو کی تحریک کا سب سے بڑا مخالف سمجھا جاتا ہے۔ انہی جج کی نگرانی میں سابق صدر جائر بولسونارو کو 2022 کے انتخابات میں شکست کے بعد اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش پر 27 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

رپورٹ میں برازیل کے سب سے بڑے بینکنگ اسکینڈل اور پلے بوائے بینکر ڈینیل وورکارو (Daniel Vorcaro) کا بھی ذکر سامنے آیا ہے، جس کے رابطے بولسونارو خاندان سے بتائے جاتے ہیں اور جس پر سپریم کورٹ کے بعض ججوں سے مبینہ تعلقات کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔