لندن (رائٹرز): برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ کسی بھی دباؤ کے باوجود ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بحری ناکہ بندی میں امریکہ کا ساتھ دے گا۔
بی بی سی ریڈیو 5 لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم اسٹارمر نے کہا:”ہم اس ناکہ بندی کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ ہمارا تمام تر زور اس بات پر ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری ٹریفک کے لیے کھلا رکھا جائے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ اس خطے میں برطانیہ کے ‘مائن سویپر’ (بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز) موجود ہیں، لیکن ان کی تمام تر توجہ تجارتی راستوں کی بحالی پر مرکوز ہے، نہ کہ کسی جنگی ناکہ بندی پر۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج (CENTCOM) نے پیر کی صبح 10 بجے سے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، تمام ممالک کے وہ جہاز جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جائیں گے یا وہاں سے آئیں گے، انہیں روکا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی جہاز ایران کو ‘ٹول ٹیکس’ ادا کرے گا، اسے بین الاقوامی سمندروں میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “اگر کسی ایرانی نے ہم پر یا پرامن جہازوں پر گولی چلائی، تو اسے نیست و نابود کر دیا جائے گا۔”
پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکہ نے یہ سخت گیر پالیسی اپنائی ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔





