نیویارک: امریکی وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے Drug Enforcement Administration (DEA) میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے۔ Farhana Islam نیویارک انفورسمنٹ ڈویژن کی قیادت سنبھالنے والی پہلی مسلم خاتون بن گئی ہیں۔ ان کی یہ تقرری وفاقی سطح پر Diversity and Representation کے حوالے سے ایک سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔
CBS News کو دیے گئے اپنے پہلے ٹیلی ویژن انٹرویو میں 50 سالہ فرحانہ اسلام نے اپنی زندگی کے سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا خاندان اس وقت بنگلہ دیش سے امریکہ منتقل ہوا تھا جب وہ محض ایک بچی تھیں۔ ایک Immigrant خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود، انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے اعلیٰ عہدہ حاصل کیا۔
فرہانہ اسلام نے انکشاف کیا کہ ان کے والدین چاہتے تھے کہ وہ طب (Medicine) یا وکالت (Law) جیسے روایتی شعبوں کا انتخاب کریں، لیکن ان کا خواب ہمیشہ سے Law Enforcement کا حصہ بننا تھا۔ انہوں نے کہا:
“میرے والدین نہیں چاہتے تھے کہ میں اس فیلڈ میں آؤں، لیکن میں نے اپنے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے مشکلات کا سامنا کیا۔”
بطور Special Agent in Charge، فرحانہ اسلام کا مقصد اب صرف جرائم کا خاتمہ نہیں بلکہ نئی نسل، خصوصاً خواتین اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی Mentoring کرنا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی کہانی دوسروں کے لیے Public Service میں آنے اور رکاوٹوں کو توڑنے کا ذریعہ بنے۔





