واشنگٹن(ویب ڈیسک): فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں اب صرف 100 دن باقی رہ گئے ہیں، تاہم ٹکٹوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں اور عالمی سیاسی کشیدگی نے شائقین کے جوش پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں ہونے والے اس میگا ایونٹ کے لیے بعض بین الاقوامی مداحوں نے سکیورٹی خدشات اور سخت امریکی امیگریشن پالیسیوں کے باعث صرف کینیڈا میں میچز دیکھنے کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے۔
فیفا کے مطابق اب تک تقریباً 20 لاکھ ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں، مگر قیمتیں عام شائقین کی دسترس سے باہر دکھائی دیتی ہیں۔
افتتاحی میچ کا مہنگا ترین ٹکٹ 900 ڈالر جبکہ فائنل کی پریمیم نشست 8,680 ڈالر میں دستیاب ہے۔ ری سیل مارکیٹ میں قیمتیں مزید بے قابو ہیں، جہاں نیو جرسی میں شیڈول فائنل کی ایک ٹکٹ 143,750 ڈالر تک میں فروخت کے لیے پیش کی گئی، جو اصل قیمت سے 41 گنا زیادہ ہے۔ فرانسیسی فٹ بال فینز ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹکٹوں میں 200 فیصد تک اضافے کے باعث ان کے کئی اراکین نے شرکت کا ارادہ ترک کر دیا ہے اور ٹورنامنٹ کو “عوامی کے بجائے اشرافیہ کا ورلڈ کپ” قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر ایران کے میچز امریکہ میں رکھے جانے پر شائقین میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ میکسیکو میں ایک بڑے منشیات کارٹیل رہنما کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال نے بھی سوالات کو جنم دیا ہے۔ تاہم میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبوم اور اسپین کی فین ایسوسی ایشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حالات قابو میں ہیں اور شائقین بدستور ویزا پراسیس مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔
فیفا کا مؤقف ہے کہ ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 90 فیصد حصہ عالمی سطح پر فٹ بال کے فروغ پر خرچ کیا جائے گا۔
